’لبنانی فوج بیروت میں امن بحال کرائے‘

فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں75 افراد زخمی ہوگئے۔ فوٹو: اے ایف پی
بیروت میں ہفتے کو سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان تازہ جھڑپوں میں75 افراد زخمی ہوگئے۔
لبنانی پولیس نے بیروت کے مضافات میں حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی اور واٹرکینن کا استعمال کیا۔
روئٹرز کے مطابق لبنان کے صدر مشیل عون نے فوج اور سیکیورٹی کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ وسطی بیروت میں امن بحال کرائیں جہاں ہفتے کو سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔

وسطی بیروت میں احتجاجی مظاہرین کے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی۔فوٹو: اے پی

 صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا’لبنانی صدر نے پرامن مظاہرین اور سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کے ساتھ وسطی بیروت میں امن کی بحالی پر زور دیا ہے‘۔
 سی این این نے بیروت میں شہدا اسکوائر کے قریب موقع پر موجود اپنے نامہ نگاروں کے حوالے سے بتایا ’مظاہرین نے پتھراﺅ کیا اور آتشگیر مواد پھینکا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی۔ پورا علاقہ دو گھنٹے تک میدان جنگ بنا رہا‘۔
 اے ایف پی کے مطابق ہفتے کووسطی بیروت میں احتجاجی مظاہرین کے خیموں میں آگ بھڑک اٹھی۔ فوری طور پر آتشزدگی کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

 پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی اور واٹرکینن کا استعمال کیا۔ فوٹو: روئٹرز

 واضح رہے کہ لبنان میں اکتوبر سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔ حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پرنکل آئی اور پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس میں کچھ ہفتوں کے لیے ٹہراﺅ آیا تھا۔
 مظاہرین اب وزیراعظم سعد الحریری کے مستعفی ہونے کے بعدنئی حکومت کی تشکیل میں مسلسل تاخیر پر احتجاج کر رہے ہیں۔
 العربیہ نیٹ کے مطابق لبنان کے مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
مظاہرین غیر جانبدار ماہرین اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ روایتی سیاست دانوں کو اقتدار سے دور رکھا جائے۔

شیئر: