’ڈرنے والے آزادی کے حقدار نہیں‘

ام عباس عراقی مظاہرین کا آئیکن بن گئی ہیں(فوٹوالعربیہ)
ام عباس وہ عراقی خاتون ہیں جو کرپشن کے خاتمے اور تبدیلی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کا آئیکون بن گئی ہیں۔
وہ روزانہ صبح 6 بجے سے شام 8 بجے تک نوجوان مظاہرین کے لیے مفت روٹیاں بناتی ہیں۔

ام عباس نوجوان مظاہرین کے لیے مفت روٹیاں بناتی ہیں۔ (فوٹو العربیہ)

العربیہ نیٹ کے مطابق عراق کے جنوب میں الناصریہ کے عین وسط میں ذی قار کمشنری ہے جہاں عراقی نوجوان کئی دن سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔
یہ مظاہرین بغداد میں ہونے والے مظاہروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ کرپشن کے خاتمے اور ملک میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
ام عباس ذی قار میں ہونے والے مظاہروں کی نہ صرف نمایاں ترین شخصیت بن چکی ہیں بلکہ انہیں سیکڑوں نوجوان مظاہرین کے نام بھی ازبر ہوچکے ہیں۔

یہاں مظاہرین کے لیے مفت لانڈری کا بھی انتظام ہے(فوٹو العربیہ)

ام عباس کہتی ہیں’ میں یہاں روزانہ نوجوان مظاہرین کے لیے روٹیاں پکاتی ہوں۔ یہ نوجوان مجھے آٹا لاکے دیتے ہیں اور روٹیاں پکانے میں ہاتھ بٹاتے ہیں‘۔
وہ کہتی ہیں’ یہاں روزانہ آٹے کی 4 بوریاں لائی جاتی ہیں۔ صبح سے شام تک میں روٹیاں پکاتی ہوں اور دیگر نوجوان کھانے کا انتظار کرتے ہیں‘۔

عراقی نوجوان کئی دن سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں (فوٹو العربیہ)

ام عباس کا کہنا ہے کہ ’ دھرنے کے پہلے دن سے میدان میں موجود ہوں۔
اب تو یہ میرا دوسرا گھر بن گیا ہے، صبح سے میرے گرد نوجوان جمع ہوجاتے ہیں جو روٹیاں پکانے میں مدد کے ساتھ اپنے حصے کے منتظر رہتے ہیں‘۔
وہ کہتی ہیں’ نوجوانوں کو مفت خدمات پیش کرنے میں تنہا نہیں ہوں، یہاں ایک جگہ پر نوجوانوں کے لیے مفت لانڈری کا بھی انتظام ہے، مظاہرین کے کپڑے دھونے اور استری کرنے کے لیے رضاکار موجود ہیں‘۔
وہ کہتی ہیں’ میدان میں بہت بڑا بورڈ نصب ہے جس پر لکھا ہے’ ڈرنے والے آزادی کے حقدار نہیں‘ اس بورڈ کے گرد روزانہ سیکڑوں نوجوان جمع ہوتے ہیں‘۔
نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ’ دھرنے کے لیے اس جگہ کا انتخاب اس لیے کیا گیا ہے کہ گزشتہ صدی کی بیسویں دہائی میں غیر ملکی استعمار کے خلاف یہیں دھرنا دیا گیا تھا‘۔

شیئر: