ایران کو دہشتگردی کی سرپرستی بند کرنا ہوگی، عادل الجبیر

 سعودی عرب کو عراق کے اندرونی امور میں مداخلت پر تشویش ہے (فوٹو: سبق)
سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ایران نے ہی خطے میں گرما گرمی کا آغاز کیا۔ اسے دہشت گردی کی سرپرستی بند کرنا ہوگی اور اپنے عوام کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنا پڑے گی۔
العربیہ نیٹ اور عاجل ویب سائٹ کے مطابق عادل الجبیر نے جمعرات کو سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کو عراق کے اندرونی امور میں مداخلت پر تشویش ہے۔
ان کے مطابق ’سعودی عرب عراق پر بہت توجہ دے رہا ہے۔ یہ ہمارا برادر ملک ہے۔ اسے مدد اور تبدیلی کی ضرورت ہے۔‘

 نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے حوثیوں کے 400 قیدی آزا د کردیے ہیں۔ فوٹو العربیہ

عادل الجبیر نے مزید کہا کہ ایران جب ایک فطری ریاست والا کردار ادا کرنے لگے گا، تب ہی اس کے ساتھ تعلقات بحال ہو سکیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ خطے میں ایران کی دخل اندازیاں بڑھ گئی ہیں اور عراق اور لبنان کے شیعہ ایران کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔
سعودی وزیر مملکت برائے امور کے مطابق ایران کہہ رہا تھا کہ وہ خطے سے امریکی افواج کو نکالنا چاہتا ہے مگر جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس کے الٹ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’سعودی عرب پر حملوں کے لیے حوثیوں کو میزائل فراہم کرنے والا ایران ہی ہے۔ ہم ایران کے ساتھ گرما گرمی نہیں چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک آرامکو تیل تنصیبات پر حملوں کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔‘
عادل الجبیر نے یہ بھی کہا کہ ’ہم نے نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے حوثیوں کے 400 قیدی رہا کر دیے ہیں۔‘
انہوں نے لیبیا کے بحران کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب لیبیا کے استحکام کے لیے عرب اور بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ مل جل کر جدوجہد کر رہا ہے۔ لیبیا میں خارجی مداخلت بے حد خطر ناک ہے۔             

 

خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: