سوشل میڈیا اپنی ہی برائی کیوں کرنے لگا؟

حقیقی زندگی میں کئی چہرے اختیار کرنے کی خرابی سوشل میڈیا نے چیلنج بنا ڈالی۔ فوٹو: سوشل میڈیا
ورچوئل لائف کہیں یا سائبر دنیا، فوکس شفٹر کا عنوان دیں یا مصنوعیت کا جزیرہ پکاریں، سوشل میڈیا پر ہر اصطلاح فٹ بیٹھتی نظر آتی ہے۔ روایتی میڈیا کے مقابل بہت جلد مضبوط حیثیت اختیار کر جانے والے ڈیجیٹل میڈیا کا یہ حصہ اپنے تنوع کی وجہ سے ناقدین کے علاوہ خود اسے استعمال کرنے والوں کے طعنے اور تبصرے بھی سہتا ہے۔
بات کوئی بھی ہر حال میں مزاح سے باز نہ رہنا، دوٹوک اور بے رحمانہ تبصرے، بات کا بتنگڑ بنانا اور پروپیگنڈا ٹول کی خاصیت رکھنے والے سوشل میڈیا کو خود سے ایک شکایت یہ بھی ہے کہ یہاں ایک شخص کئی چہرے رکھتا، یا ایسا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔
اپنی پروفیشنل لائف کے دوران کئی بار پرفارمنس ٹرینڈز کا حصہ بننے والی 74 سالہ امریکہ گلوکارہ ڈولی ربیکا پیرٹون اس ٹرینڈ کی بنیاد بنیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے گویا ہر ایک اس کا حصہ دکھائی دینے لگا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ اپنے لیے ایسی خاتون حاصل کریں جو ہر جگہ فٹ ہو سکے۔
منفرد سے موضوع نے گلوبل ٹائم لائنز پر بحث کی شکل اختیار کی تو مختلف صارفین نے سوشل میڈیا کی نمایاں سائٹس فیس بک، لنکڈان، انسٹاگرام، ٹوئٹر اور پنٹریسٹ وغیرہ کے درمیان فرق کو اپنی گفتگو کا موضوع بنایا۔ صارفین نے سوشل نیٹ ورکس کی امتیازی خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے میمز میں ذکر کیا کہ کون، کس پلیٹ فارم پر کیا رنگ اختیار کرتا ہے۔
مشہورزمانہ سپائی سیریز جیمز بونڈ کے ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ ایک جاسوس یہ سب کر سکتا ہے۔
ڈیشا پولانکو چیلنج کا حصہ بنیں تو اپنی مختلف پروفائل پکچرز کا کولاج شیئر کرتے ہوئے فلٹرز کا فیچر بھی استعمال کر ڈالا۔
زندگی کے سنجیدہ گوشوں سے متعلق اکاؤنٹس بھی ڈولی ربیکا پیرٹون چیلنج کا حصہ بنے۔ پیپلز کیوب نامی ہینڈل نے دکھایا کہ سوشلزم اپنی جانب راغب کرنے کے لیے کیسے رنگ اختیار کرتا ہے۔

یورپین سپیس ایجنسی بھی چیلنج کا حصہ بنی تاہم اپنی ٹویٹ میں انہوں نے عمومی دھارے سے ہٹتے ہوئے مختلف سوشل پلیٹ فارمز پر ادارے کے اکاؤنٹس کو نمایاں کیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بہت سے صارفین اپنی اصل شناخت کے ساتھ رہنے کے بجائے علامتی یا ڈیفالٹ شناخت کو بھی ڈسپلے پکچر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ رینڈی نامی ہینڈل نے اسی نکتے کو اپنی ٹویٹ کی بنیاد بنایا

امریکی سینیٹ میں پہنچنے کی خواہاں سابق میرین نے بھی چیلنج قبول کیا تاہم انہوں نے اسے بھی اپنی مہم کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لکھا کہ اپنے لیے ایسا سینیٹر منتخب کریں جو یہ سب کر سکتا ہو۔

چیلنج میں حصہ لینے والے متعدد صارفین نے خود کو مختلف رنگوں میں دکھانے کے بجائے دوسری شخصیات کو ایسا کرنے کے لیے منتخب کیا۔ ایسے افراد یا اداروں کے اکاؤنٹس امریکی صدر، برطانوی وزیراعظم اور کھیل سمیت شوبز کی مختلف شخصیات کی تصاویر شیئر کرتے رہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: