بغداد میں فوج کی مظاہرین پر فائرنگ، 4 ہلاک

ہفتے کو مرکزی بغداد میں فوج اور مظاہرین کے درمیان پتھراؤ اور آنکھ مچولی جاری رہی (فوٹو: روئٹرز)
عراقی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت بغداد اور جنوبی علاقوں میں سڑکوں اور گلیوں کو مظاہرین سے خالی کرا لیا ہے جس کے بعد مظاہرین میں یہ خوف پیدا ہوا ہے کہ ان کی اصلاحات کے لیے جاری مہم کو تشدد سے ختم کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے طبی کارکنوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہفتے کی صبح سکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کر کے مظاہرین کو کیمپوں سے منتشر کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق عراقی سکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز مظاہرین کو جنوبی شہروں سے نکالنے کے لیے آنسو گیس اور فائرنگ کی جس سے چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
بغداد میں اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کا پیچھا کرتے اور ان پر لاٹھی چارج کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
مشہور مذہبی رہنما مقتدیٰ الصدر نے نوجوانوں کی جانب سے شروع کی جانے والی اس مہم کی حمایت سے جمعے کو دستبرداری کا اعلان کیا تھا جس کے ایک دن بعد فوج مظاہرین کو سڑکوں اور چوراہوں سے منتشر کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
مقتدیٰ الصدر کی جانب سے الگ سے احتجاج کی کال دی گئی تھی جس کے جواب میں ان کے ہزاروں حامیوں نے امریکہ سے عراق چھوڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعے کو بغداد کی سڑکیں بھر دیں تھیں۔
اے ایف پی کے مطابق پولیس نے دارالحکومت بغداد میں مظاہرین کے کئی کیمپس کو آگ بھی لگا دی ہے۔
ایک طبی کارکن نے اے ایف پی کو بتایا کہ فوج نے ایک بڑے خیمے کو، جس میں زخمی ہونے والے مظاہرین کو طبی امداد دی جا رہی تھی، آگ لگا دی۔

مظاہرین نے تحریر سکوائر پر کیمپوں سے لکڑی کے بنے رنگ برنگے سٹال اکھاڑ دیے (فوٹو: اے ایف پی)

بغداد شہر کے فوجی کمانڈر نے اعلان کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے احرار پل کا کنٹرول مظاہرین سے لے لیا ہے۔ احرار پل مظاہرین اور سکیورٹی فورسسز کے درمیان کئی مہینوں سے جاری تصادم کا مرکزی پوائنٹ تھا۔
اعلامیے کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو تیارن چوک اور محمد قاسم ہائی وے سے بھی پیچھے ہٹا دیا ہے۔ مذکورہ  جگہوں پر اس ہفتے نئے سرے سے دھرنوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تاکہ حکومت ان اصلاحات کا آغاز کرے جن کا مطالبہ کافی عرصے سے ہو رہا ہے۔
ہفتے کی دوپہر کو مرکزی بغداد میں فوج اور مظاہرین کے درمیان پتھراؤ اور آنکھ مچولی جاری تھی لیکن سکیورٹی فورسز ابھی تک تحریر چوک کے مرکزی کیمپ میں داخل نہیں ہوئیں۔
اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر کے مطابق کئی مظاہرین نے تحریر سکوائر پر کیمپوں سے لکڑی کے بنے رنگ برنگے سٹال اکھاڑ دیے جنہیں انہوں نے کئی مہینے پہلے لگایا تھا۔ ان کے مطابق کیمپوں سے سٹال سمیٹ کر جانے والوں میں سے اکثر مقدیٰ الصدر کے حامی ہیں۔
مظاہرین میں سے ایک نے الزام لگایا کہ الصدر نے اس مہم کی سیاسی حمایت سے دستبرداری کا اعلان کرکے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی راہ ہموار کی ہے۔
انہوں نے غصیلے لہجے میں سوال اٹھایا کہ ’جب آپ کے لوگوں نے کیمپ چھوڑنا شروع کر دیا تو صبح سویرے پولیس آگئی اور پورے پل کو کنٹرول میں لے لیا، ایسا کیوں ہوا؟

بصرہ میں سکیورٹی فورسز نے ایک کیمپ میں گھس کر مظاہرین کو زبردستی منتشر کیا (فوٹو: روئٹرز)

مقتدیٰ الصدر تیزی سے سیاسی پوزیشن تبدیل کرنے کے لیے بدنام ہیں۔
جب گذشتہ سال اکتوبر میں عراق میں مظاہرے شروع ہوئے تھے تو انہوں نے ان کی حمایت کی تھی اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔
لیکن گذشتہ روز انہوں نے عراق میں موجود پانچ ہزار دو سو امریکی فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے الگ سے احتجاج کی کال دی۔ انہوں نے یہ مطالبہ امریکی ڈرون حملے میں عراقی اور ٹاپ ایرانی کمانڈر کی ہلاکت کے بعد کیا۔
الصدر کی کال پر جمعے کو ہزاروں لوگ عراق کی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ الصدرنے خود مظاہرے میں شرکت نہیں کی تاہم انہوں نے مظاہروں میں بڑے پیمانے پر لوگوں کی شرکت کو سراہا اور کہا کہ وہ آئندہ حکومت مخالف مظاہروں کا حصہ نہیں بنیں گے۔
مقتدیٰ الصدر کے اس ’یوٹرن‘ کے بعد ملک کے مختلف علاقوں سے رپورٹیں آرہی ہیں کہ مظاہرین اپنے کیمپ چھوڑ رہے ہیں۔
ہلا، دیوانیہ، کوت، ماراہ اور نجف شہر میں مظاہریں نے خیمے اکھاڑ دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گذشتہ رات کو بصرہ میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے ایک کیمپ میں گھس کر مظاہرین کو زبردستی منتشر کیا اور ان کے کیمپ کو آگ لگا دی۔
ہفتے کو میونسپل سٹاف نے کیمپ کی جلی ہوئی باقیات کو صاف کرکے سکوائر کو کھول دیا۔

شیئر: