Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹوئٹر: صارفین کی پرائیویسی کے لیے اقدام

ٹوئٹر اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے والے صارفین کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے موبائل نمبرز کے ذریعے ٹوئٹر صارفین کا کھوج لگانے والے ’فیک اکاؤنٹس‘ کے ایک بہت بڑے نیٹ ورک کا پتا چلا کر اسے ختم کر دیا ہے۔
فیک اکاؤنٹس کا یہ نیٹ ورک لوگوں کے موبائل نمبرز کے ایک ڈیٹا بیس ’اے پی آئی‘ کا غلط استعمال کرتے ہوئے ان موبائل نمبرز سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹس اور انہیں چلانے والے شہریوں کا پتا چلا رہا تھا، جس سے بہت سے شہریوں کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔
یہاں اس بات قابل ذکر ہے کہ بہت سے ٹوئٹر صارفین سماجی رابطوں کی اس ویب سائٹ پر اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے اور ٹوئٹر ان کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے۔

 

ٹوئٹر نے تین فروری کے ایک اعلامیہ میں یہ تو بتا دیا کہ ادارے نے ان سب فیک اکاؤنٹس کو معطل کر دیا ہے اور یہ کہ اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کی تفصیلات جاری کی جارہی ہیں تا کہ صارفین کو پتا چل سکے کہ ’کیا ہوا اور ہم نے اس مسئلے کو کیسے حل کیا۔‘
 تاہم سماجی رابطوں کی اس بڑی ویب سائٹ نے یہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔ نہ تو فیک اکاؤنٹس کے اس بڑے نیٹ ورک کے بارے میں تفصیلات بتائیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ نیٹ ورک کس ملک سے آپریٹ کر رہا تھا۔ 
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر ٹوئٹر کے ’ڈیٹا پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ‘ نے جواب دیا کہ ادارہ اس وقت کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ ٹوئٹر کے پریس سیکشن کی لنڈسے میک کالم نے بھی یہی جواب دیا کہ وہ اس حوالے جاری کی گئی معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتیں۔
حیرت انگیز طور پر ٹوئٹر نے اس حوالے سے مزید تحقیقات بھی کیں اور ان مزید تحقیقات کی تفصیلات جاری کر دیں مگر ابتدائی طور پر سامنے آنے والے فیک اکاؤنٹس کے ایک بہت بڑے نیٹ ورک کے بارے میں نہیں بتایا۔

ٹوئٹرنے کہا کہ وہ یہ معلومات صارفین کو محتاط کرنے کے لیے اپنے اصول کے تحت جاری کر رہا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

ٹوئٹر نے یہ بتا دیا کہ اس حوالے سے جب مزید تحقیقات کی گئیں تو ایسے بہت سے مزید اکاؤنٹس بھی سامنے آئے جن کے بارے میں سماجی رابطوں کی یہ ویب سائٹ سمجھتی ہے کہ وہ بھی ٹوئٹر کی اِسی ’اے پی آئی‘ کے اصل مقصد کے بجائے اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے موبائل نمبرز سے منسلک ٹوئٹر اکائونٹس کا پتا چلا رہے تھے۔
ایک اعلامیہ کے مطابق انفرادی ’آئی پی ایڈریسز‘ سے بہت ہی بڑی تعداد میں لوگوں کے موبائل نمبر درج کر کے ان نمبرز سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹس کا پتا چلانے کی کوشش کی کی گئی۔
ٹوئٹر کے مطابق ابتدائی نیٹ ورک کے سامنے آنے کے بعد کی جانے والی تحقیقات کے نتیجے میں مزید مشکوک اکاؤنٹس، جو اس غیر معمولی سرگرمی میں ملوث تھے، کا تعلق بہت سے ممالک کے آئی پی ایڈریسز سے تھا مگر اس طرح کی زیادہ تر ’ریکوسٹس‘ ایران، اسرائیل اور ملائیشیا سے کی گئیں۔ 
ٹوئٹر نے اس حوالے سے یہ تک بتا دیا کہ یہ ممکن ہے کہ انفرادی ’آئی پی ایڈریسز‘ جو موبائل نمبرز سے منسلک ٹوئٹراکاؤنٹس کا کھوج لگانے کی مشکوک سرگرمی میں ملوث تھے ان کا ریاستوں کی پشت پناہی رکھنے والے کرداروں سے تعلق ہو۔
ٹوئٹرنے کہا کہ وہ یہ معلومات صارفین کو احتیاط کرنے اور محتاط ہو جانے کے لیے اپنے اصول کے تحت جاری کر رہا ہے۔

’جن لوگوں کے پاس آپ کا موبائل نمبر ہے انہیں اس کے ذریعے آپ کو تلاش کرنے کی اجازت دیجیے۔‘ فوٹو: اے ایف پی

’اے پی آئی‘ بنیادی طور پر مختلف فنگشنز اور پراسز کا مجموعہ ہوتا ہے جو مل کر ایک ایپلیکیشن بناتے ہیں جس سے کسی بھی آپریٹنگ سسٹم کی بہت سی خصوصیات اور ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ 
’جن لوگوں کے پاس آپ کا موبائل نمبر ہے انہیں اس کے ذریعے آپ کو تلاش کرنے کی اجازت دیجیے۔‘
یہ دراصل ٹوئٹر کا ایک فنگشن ہے جس کا اصل مقصد نئے آنے والے صارفین کو یہ سہولت دینا ہے کہ وہ اپنے جاننے والوں کو ان کے موبائل نمبر کے ذریعے سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ پر تلاش کر سکیں۔
جو صارفین اس آپشن کو ’اوکے‘ کرتے ہیں انہیں ان کے موبائل نمبر کے ذریعے تلاش کیا جا سکتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک اچھا فنگشن ہے مگر اس معاملے میں غلط نیت سے چند غلط مفادات رکھنے والے لوگوں نے شہریوں کے موبائل فون معلوم کرکے ان کے زیراستعمال ایسے ممکنہ ٹوئٹراکاؤنٹس تلاش کرنے کی کوشش کی جس پر وہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے۔
یہ ان شہریوں  کے راز افشا نہ ہونے کے بنیادی حق اور اصول کی واضح اور بہت بڑی خلاف ورزی تھی۔
ٹوئٹر کے پرائیویسی کے قوانین بہت واضح اور پراثر ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

ٹوئٹر نے اپنے صارفین کو بتایا اب اس خامی کو دور کر لیا گیا ہے. فوٹو: اے ایف پی

واضح رہے فیک اکاؤنٹس کے نیٹ ورک کے ذریعے سے ہونے والی اس واردات سے انہی لوگوں کے اکاؤنٹس تک رسائی ہو سکی جنہوں نے اپنا موبائل نمبر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے منسلک کیا اور اوپر بتائی گئی آپشن کو بھی ’اوکے‘ کیا۔
 یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا فیک اکاؤنٹس کے بڑے نیٹ ورک جسے ٹوئٹر نے بند کردیا اس نے کس کس ملک کے کتنے شہریوں کی معلومات حاصل کر لیں اور اب انہیں کس طرح کے خطرات لا حق ہو سکتے ہیں۔
ٹوئٹر اب اس فنگشن میں اس طرح سے بہتری لے آیا ہے کہ اب مخصوص ناموں کے حوالے سے ایسی ریکوسٹس پر جواب نہیں آئے گا۔ ٹوئٹر نے اس واقعے پر اپنے صارفین سے معذرت بھی کی ہے۔
اس سے پہلے بھی ٹوئٹر نے اکیس دسمبر کو مختلف صارفین، جو اینڈرائڈ فون استعمال کرتے تھے، کو ای میل کے ذریعے مطلع کیا تھا کہ ان کے فون کی ٹوئٹر ایپ پر ایک ایسی کمزوری سامنے آئی ہے جس سے چند برے کردار ان کے ڈیٹا، میسجز اور ڈی ایم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
ٹوئٹر نے اپنے صارفین کو بتایا اب اس خامی کو دور کر لیا گیا ہے اس لیے وہ اپنے اینڈرائڈ فون کی ٹوئٹر ایپ کو اپ ڈیٹ کر لیں۔ مگر ٹوئٹر نے ہزاروں صارفین کو انفرادی ای میلز تو بھیج دیں مگر اپنے اعلان میں یہ نہیں بتایا کہ اس اینڈرائڈ ٹوئٹر ایپ کی خامی کی وجہ سے کتنے لوگوں کا ڈیٹا لیک ہوا۔

شیئر: