Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

وٹس ایپ سٹیٹس کا تنازع، پشاور میں نوجوان کو دوست نے قتل کر دیا

پولیس کے مطابق ملزم کے سٹیٹس کا مذاق اڑانے پر بات لڑائی تک جا پہنچی: فوٹو پکسابے
پولیس حکام کے مطابق پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں جواں سال لڑکے فرحان خان کو ان کے وٹس ایپ سٹیٹس کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔
فرحان خان افطاری سے قبل بازید خیل میں حجام کی دکان میں موجود تھا جب ملزم شاہ زیب نے انہیں گولی مار کر قتل کردیا۔
نوجوان فرحان خان کو شدید زخمی حالت میں سٹی ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں پیر کو وہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئے۔
مقتول کے والد کے بیان کے مطابق ملزم نے وقوعہ سے ایک روز قبل کال کرکے ان کے بیٹے کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔
ملزم نے کہا تھا کہ ’فرحان نے مجھے گالی دی ہے میں اسے جان سے مار دوں گا۔‘ مقتول فرحان کے والد کا کہنا تھا کہ ’اس نے ملزم سے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ فرحان کو کچھ نہ کہے اور اس کی جگہ وہ معافی مانگتے ہیں۔‘
مقتول کے والد کے مطابق وقوعہ کے روز عصر کی اذان سے کچھ دیر پہلے فرحان بال بنوانے کے لیے حجام کے پاس گیا تھا لیکن کچھ ہی لمحوں کے بعد بیٹے کو گولی مارے جانے کی اطلاع ملی۔
والد نے بتایا کہ ’فرحان خان نے عید کے لیے دو سوٹ سلوائے تھے۔ وہ عید کی تیاریوں میں مصروف تھے لیکن اسے کیا خبر تھی کہ وہ عید سے قبل قبر میں چلا جائے گا۔‘ 
وٹس ایب سٹیٹس کا تنازع
مقتول فرحان کے والد نے بتایا کہ ’ملزم نے وٹس ایپ پر اپنی ایک تصویر لگائی تھی جس پر میرے بیٹے کی جانب سے ہنسی والا ایموجی سینڈ ہوگیا تھا جس پر ملزم کو رنج تھا کہ اس کا مذاق اُڑایا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بیٹے سے غلطی ضرور ہوئی تھی مگر یہ اتنا بڑا جرم نہیں تھا کہ اسے جان سے مار دیا جاتا۔‘
پولیس کا مؤقف
ایس پی ارشد خان کا مؤقف ہے کہ ’ملزم اور مقتول ایک دوسرے کے دوست رہ چکے ہیں۔ ان کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجہ وٹس ایپ سٹیٹس تھا جس پر وہ ایک دوسرے کے مخالف ہو گئے۔‘
پولیس کے مطابق ملزم کے سٹیٹس کا مذاق اڑانے پر دونوں کے بیچ گالم گلوچ ہوئی اور بات لڑائی تک جا پہنچی۔
ایس پی ارشد خان کے مطابق ملزم نے گالی کا بدلہ لینے کے لیے اپنے دوست فرحان خان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ملزم شاہ زیب واقعہ کے بعد سے مفرور ہے جسے جلد گرفتار کر لیا جائے گا اور اس کے بعد ہی مزید تفتیش ہوگی۔‘

شیئر: