کورونا وائرس کو نیا نام کیوں دیا گیا ہے؟

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو ایک عارضi نام دیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو ’کو وڈ 19‘ کا نام دے دیا ہے تاکہ اسے کسی مخصوص ملک یا علاقے سے منسلک نہ کیا جائے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ اعلان منگل کو کیا گیا۔
عالمی ادارہ صحت کے چیف ٹیڈروس ادھانوم نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے پاس اب اس بیماری کے لیے ایک نام ہے اور وہ کو وڈ 19 ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ کو وڈ 19 میں ’کو‘ کے معنی ہیں کورونا، اس میں ’وی‘ وائرس کے لیے ہے اور ’ڈی‘ ڈیزیز کے لیے ہے۔
ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ ’یہ نام اسی لیے چنا گیا ہے تاکہ کورونا وائرس کو کسی مخصوص علاقے یا ملک سے منسلک نہ کیا جائے۔
اس سے قبل، عالمی ادارہ صحت نے اس وائرس کو ایک عارضی نام دیا تھا۔
جنیوا میں بین الاقوامی سائنس کانفرنس کے پہلے روز بات کرتے ہوئے ٹیڈروس کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے اس وائرس کو روکنے کا ایک ’اصل موقع‘ دیکھا ہے۔‘
واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ کورونا وائرس کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے چین کے صدر شی جن پنگ نے وبا کے خلاف کام کرنے والے فرنٹ لائن ہسپتال کا دورہ کیا ہے۔
منگل کو ماسک پہنے اور حفاظتی انتظامات کیے چینی صدر نے ہسپتال میں میڈیکل کارکنوں اور زیرعلاج مریضوں سے ملاقات کی اور وبا کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کی ہدایت کی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر شی نے ہسپتال کا دورہ کرنے کے بعد صورت حال کو ’تاحال انتہائی سنگین‘ قرار دیا ہے۔ صدر نے بیجنگ سے ووہان کے ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں اور مریضوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب بھی کیا۔

شیئر:

متعلقہ خبریں