’ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کریں‘

(ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کئی مرتبہ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ثالثی کے دعوؤں پر عمل کرتے ہوئے اپنے دورہ انڈیا کے دوران اس پر بات کریں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے جمعرات کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک سے زائد مرتبہ کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیش کش کر چکے ہیں۔‘
’ہم امید کرتے ہیں کہ اب وہ اپنے وعدوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ انڈیا کے دورے کے دوران وہ خطے میں عدم استحکام کی وجہ بننے والے مسئلے پر انڈین قیادت سے وہ کھل کر بات کریں گے۔‘

 

انھوں نے کہا کہ ’کشمیر کرفیو، میڈیا اور سوشل میڈیا بلیک آؤٹ کے باعث دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔ حریت رہنما سید علی گیلانی کے حوالے سے بھی افواہیں اسی وجہ سے گردش کر رہی ہیں کہ موبائل اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث کسی کو حقائق تک رسائی نہیں۔ یہ صورت حال عالمی برادری کی توجہ کی متقاضی ہے۔‘
’وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی ثالثی کی پیش کش پر امریکی قیادت کو انڈیا سے بات کرنے کا کہہ چکے ہیں۔
انڈیا کی جانب سے امریکہ سے مربوط فضائی دفاعی نظام کی خریداری سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’موجودہ صورت حال میں ہمارے لیے یہ خاص طور پر پریشان کن بات ہے۔‘
عائشہ فاروقی نے کہا کہ ’خطہ پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہے۔ امریکہ کی جانب سے انڈیا کو مربوط فضائی دفاعی نظام کی فروخت کا فیصلہ خطے میں سٹریٹجک عدم توازن کا باعث بنے گا۔ اس کے پاکستان اور خطے کی سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘

ترجمان کے مطابق امریکہ کی جانب سے انڈیا کو فضائی دفاعی نظام کی فروخت خطے میں سٹریٹجک عدم توازن کا باعث بنے گا (فوٹو: اے ایف پی)

انھوں نے کہا کہ ’عالمی برادری پاکستان کے خلاف انڈیا کے جارحانہ عزائم، سیاسی اور عسکری قیادت کے پاکستان کو دیے گئے دھمکی آمیز بیانات سے بخوبی آگاہ ہے۔ خطہ اسلحے کی دوڑ کا متحمل نہیں ہو سکتا، اس لیے عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطے کو مزید عدم استحکام سے روکنے کے لیے کردار ادا کرے ۔‘
چین میں کرونا وائرس کے حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ’جن چار پاکستانی طلبہ میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی وہ اب صحت یاب ہو کر ہسپتال سے فارغ ہو چکے ہیں۔‘
’وزیراعظم کی ہدایت پر کورونا سے متاثرہ علاقوں میں موجود پاکستانی طلبہ اور شہریوں کے حوالے سے چینی حکام کے ساتھ رابطے مزید بہتر بنا دیے ہیں اور  ان کی فلاح اور ضروریات کا خیال رکھا جا رہا ہے۔‘
  • واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

 

شیئر: