Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ناخنوں پر ڈیزائنگ کا رواج صدیوں پرانا

آج کل لڑکیوں میں ’نیل آرٹ‘ یعنی ناخنوں پر رنگا رنگ نقش و نگار بنوانے کا رواج بہت مقبول ہو رہا ہے۔
خواتین اس آرٹ کے ذریعے ناخنوں کی زیبائش پر ہر ماہ ہزاروں روپے خرچ کرتی ہیں۔
اس آرٹ کی دلدادہ خواتین کا کہنا ہے کہ اس سے شخصیت میں نکھار آتا ہے اور اس پر خرچ کی گئی رقم خوبصورتی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔
اگرچہ بہت سے لوگ اس آرٹ کو نیل پالش کی جدید شکل سمجھتے ہیں لیکن اس کے آثار صدیوں پرانی تہذیبوں میں بھی ملتے ہیں۔
قدیم مصر میں خواتین مہندی کے ساتھ اپنے ناخنوں پر رنگ لگاتی تھیں، تا کہ اپنی معاشرتی حیثیت کو ظاہر کر سکیں۔ نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین مدہم رنگ جبکہ اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھنے والی گہرے اور چمکیلے رنگوں کا استعمال کرتی تھیں۔
ماہرین کے مطابق تین ہزار دو سو قبل مسیح میں قدیم ریاست بابل میں مرد بھی ناخنوں پر کالے اور سبز رنگ لگاتے تھے۔
اُس زمانے میں جنگجو، جنگ کی تیاری کے لیے کئی گھنٹے ناخنوں کی تیاری اور بالوں کو رنگ کرنے میں لگاتے تھے۔ کیونکہ قدیم مصر میں ناخن کا رنگ شخصیت کی نشاندی کرتا تھا، کالا رنگ امیروں جبکہ سبز رنگ عام آدمی کی شناخت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
اسی دوران تین ہزار قبل مسیح میں، قدیم چین میں پہلی بار نیل پالش کی ابتدا ہوئی، جس کو موم، انڈوں کی سفیدی، جیلٹن، سبزیوں کے رنگ کے ذریعے بنایا گیا، چین میں لوگ کئی گھنٹوں تک اس مرکب میں ہاتھ ڈبو کر رکھنے کے بعد اس کو سوکھنے کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ ان سے مختلف طرح کے رنگ بنائے جاتے تھے، اور اس کا انحصار مرکب کے اجزا پر ہوتا تھا۔ چھ سو قبل مسیح میں شاہی خاندان چاؤ کے افراد اپنی معاشرتی حیثیت ظاہر کرنے کے لیے سونے اور چاندی کی چمک ناخنوں پر استعمال کرتے تھے۔

سب سے پہلے سال 2012 میں امریکہ میں نیل آرٹ کی مقبولیت سامنے آئی تھی۔

دوسری جانب بعض معاشروں میں نیل آرٹ کو نسوانیت کے تصور سے منسلک کیا جاتا ہے۔  بیسویں صدی میں میڈیا میں زیادہ پزیرائی اور انٹرنیٹ کے دور اور سوشل میڈیا کے عام استعمال کے بعد یہ رجحان خواتین میں بڑی تیزی سے مقبول ہوتا گیا۔
2012 میں امریکہ میں سب سے پہلے نیل آرٹ کی مقبولیت کا اندازہ لگایا گیا، اور اسی سال نیل آرٹ پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم ’نیلگاسم‘ جاری کی گئی تھی۔ اس فلم میں دنیا بھر میں نیل آرٹ سے متعلق بڑھتے رحجان کا مطالعہ کیا گیا، اور یہ دیکھا گیا کہ نہ صرف خواتین بلکے مرد بھی یوٹیوب، انسٹاگرام اور پن ٹرسٹ کا استعمال کرتے ہیں، تاکہ وہ گھر میں بہترین اور نت نئے ڈیزائن بنانا سیکھ سکیں۔
پاکستان میں بھی دیگر ممالک کی طرح نیل آرٹ بڑی تیزی سے مقبول ہوا ہے۔ اب تقرییاً ہر پارلر میں نیل آرٹ کی سروس فراہم کی جا رہی ہیں۔

نیل آرٹ ہے کیا؟

 یہ ایک قسم کی پھول کاری ہے جو ہاتھوں اور پیروں کے ناخنوں پر کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار ناخن کے آس پاس کی جلد کو نرم بھی کردیتا ہے۔

پاکستان میں بھی دیگر ممالک کی طرح نیل آرٹ بڑی تیزی سے مقبول ہوا ہے۔

یوکرائن کی سرٹیفائیڈ نیل آرٹسٹ نتالیہ چودھری، جنہوں نے پاکستان میں شادی کے بعد حال ہی میں اسلام آباد میں اپنا پارلر شروع کیا ہے، کہتی ہیں کہ پاکستان میں نیل آرٹ کو ناخن پر نیل پالش لگانے اور اس پر ڈیزائن بنانے تک محدود کر دیا گیا ہے مگر درحقیقت یہ عمل دو سے تین گھنٹوں پر محیط ہوتا ہے۔
ان کے پارلر میں ایک چھوٹے سے کمرے میں ٹیبل لائٹ، ہاتھوں پر دستانے اور مختلف آلات دیکھ کر ایک آپریشن تھیٹر کا گماں ہوتا ہے۔
مگر نتالیہ نے بتایا کہ انہوں نے یہ تمام چیزیں مینی کیور اور نیل ایکسٹینشن کے عمل کے لیے رکھی ہوئی ہیں۔  
اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ناخنوں پر ڈیزائنگ کی مہارت ہر کسی کو نہیں ہوتی، اس کے لیے کئی سالوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ 

قدیم مصر میں خواتین مہندی کے ساتھ اپنے ناخنوں پر رنگ لگاتی تھیں۔

نتالیہ باریکی سے ناخن پر پھول، ٹہنیاں، درخت اور دوسرے کئی طرح کے ڈیزائن بناتی ہیں۔ جو دیکھنے والے کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
نتالیہ کا کہنا ہے کہ بد قسمتی سے پاکستان میں نیل آرٹسٹ بہت کم ہیں، جبکہ دیگر ممالک میں اس آرٹ میں انتہائی جدید طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

نیل آرٹ کے سائیڈ ایفیکٹس

نتالیہ بتاتی ہیں کہ دنیا بھر میں نیل ایکسٹینشنز اور ناخن سے جڑی دیگر منصوعات کے لیے میتھیل میتھکرائلیٹ یعنی ایکریلک پاوڈر اور ایکریلک لیکوئیڈ سے مصنوعی چیزیں بنائی جاتی ہیں، جو کہ صحت کے لیے مضر ہیں۔

 پارلر میں ایک چھوٹے سے کمرے میں ٹیبل لائٹ، دستانے اور مختلف آلات دیکھ کر ایک آپریشن تھیٹر کا گماں ہوتا ہے۔

’اس کے استعمال سے جلد کی سوزش، دمہ، آنکھوں، جلد، ناک اور منہ میں جلن، اور سانس لینے میں دشواری جیسی پرشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ لمبے عرصے تک اس کے استعمال سے پھیپھڑوں اور گردوں پر منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں، یا غیر معمولی صورت حال میں پھیپھڑے اور گردے مکمل طور پر کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔‘
ان وجوحات کے سبب مختلف ممالک میں ایکریلک پاوڈر اور لیکوئیڈ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر بلڈر جیل استعمال کی جا رہی ہے۔ 
نتالیہ کے مطابق ابھی تک پاکستان میں لوگوں کو ایکریلک کے استعمال سے پیدا ہونے والے نقصانات کا اندازہ نہیں ہے، جو کہ ایک خطرناک پہلو ہے۔

شیئر: