Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اب قطار میں لگنے کی ضرورت نہیں‘

اسلام آباد کے رہائشیوں کو اب ڈومیسائل، زمین کے کاغذات، پولیس سرٹیفیکیٹ، گاڑی کے ٹوکن اور سرکاری کاموں کے لیے لمبی لائنوں میں کھڑے ہونے یا کسی ایجنٹ کی مٹھی گرم کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ سب گھر بیٹھے ایک سرکاری ایپ کے ذریعے ان کی دسترس میں ہوگا۔
اس مقصد کے لیے پاکستان کی حکومت ’سٹی اسلام آباد ایپ‘ لانچ کرنے جا رہی ہے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے بتایا کہ اس ایپ کا مقصد عوام کو سرکاری دفتروں کے چکر لگانے کی ضرورت سے آزاد کرنا ہے تاکہ نہ صرف انہیں سہولت مل سکے بلکہ آٹومیشن کے ذریعے کرپشن کا بھی سدباب کیا جا سکے۔
ایپ اینڈرائڈ فونز پر تو دستیاب ہے لیکن لانچ کے کچھ دن بعد اسے آئی فون پر بھی مہیا کر دیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بتایا کہ اس ایپلیکشن کو استعمال کرتے ہوئے شہری گاڑیاں رجسرڈ کروانے اور لائسنس اپلائی کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے سے بچ سکیں گے۔
حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ اس ایپ کے کچھ فیچرز میں براہِ راست بعض اداروں مثلاً سوئی نادرن گیس اور فائر بریگیڈ کے لنکس ڈال دیے گئے ہیں۔ یہ ایسی سہولت ہے جس کے لیے لوگوں کو الگ سے فارم بھی نہیں بھرنا پڑے گا۔ اگر کسی شہری کو کوئی بھی معلومات چاہیے ہوں گی تو اُس لنک پر کلک کر کے اُس ویب سائٹ پر جا سکتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس ایپلیکشن میں آغاز میں ہی کافی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید فیچرز کو بھی شامل کیا جائے گا۔
صارفین اس ایپ سے اسلام آباد ٹریفک پولیس کا ریڈیو سٹیشن بھی سن سکتے ہیں۔ جس کے ذریعے وہ اسلام آباد میں ٹریفک کی صورتِ حال سے آگاہ رہ سکتے ہیں۔

ایپ کے کچھ اہم  فیچرز میں ای سروس جیسے نادرا، سی ڈی اے، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور کیپٹل سٹی پولیس شامل ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

اس ایپلیکشن کے لیے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے مل کر کام کیا ہے۔
اسلام آباد ایپ کی کچھ اہم  فیچرز میں ای سروس جیسے نادرا، سی ڈی اے، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور کیپٹل سٹی پولیس  شامل ہیں۔
مزید اس میں یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی کے طریقہ کار کو بھی ضم کیا گیا ہے۔
گذشتہ چند سالوں میں اسلام آباد میں ٹیکنالوجی کے میدان میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں سی ڈی اے کے روٹ پلانز کا اجرا، زمین کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنا اور اسلام آباد میں نئے آئی ٹی پارک کا آغاز چند ایک مثالیں ہیں۔ اس کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اسلام آباد ایک سمارٹ شہر بن رہا ہے۔

شیئر: