Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

'کورونا نے بچپن کی یادیں تازہ کرنے کا موقع دے دیا'

ماہر نفسیات بھی والدین کو بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا مشورہ دے رہے ہیں (فوٹو:سوشل میڈیا)
کورونا وائرس نے جہاں ایک خوف کی فضا پیدا کررکھی ہے وہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے لوگوں کو بچپن کی حسین یادیں تازہ کرنے کا ایک موقع بھی فراہم کردیا ہے۔
پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے پیش نظرلاک ڈاون کے بعد لوگ اپنے گھروں میں قید ہوکر رہ گئے ہیں۔ بڑوں کو تو اس صورتحال کا ادراک ہے مگر بچے یکدم گھروں میں بند ہوجانے کے بعد بوریت کا شکار ہیں۔ 
اس صورتحال میں بچے ذہنی طور پر متاثر نہ ہوں اس لیے والدین نے اس مسئلے کا حل نکال لیا ہے کہ  کیسے انہیں گھروں میں مشغول رکھا جائے۔ اور وہ اپنے زمانے کے کھیل بچوں کے ساتھ کھیل کر بچپن کی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔
 
گلی ڈنڈا، سٹاپو، پٹھو گرم،آنکھ مچولی، برف پانی، لوڈو، کیرم بورڈ اور شطرنج پرانے زمانے کے چند مقبول کھیل ہیں مگر جدید ٹیکنالوجی نے یہ کھیل ہم سے چھین لیے تھے۔ آج جب پوری دنیا ایک قید میں ہے اور مسلسل موبائل فون استعمال کرنا بھی کوفت کا باعث بن رہ ہے تو ایسے میں بچوں کے لیے ان کھیلوں کو کسی نعمت سے کم نہیں سمجھا جارہا۔

والدین نے گھروں میں بند اپنے بچوں کو مصروف رکھنے کے لیے حل ڈھونڈ نکالا ہے (فوٹو:سوشل میڈیا)

ماہر نفسیات بھی والدین کو بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ماہر نفسیات ڈاکڑ نوشابہ انجم نے اُردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ والدین اکثر اس بات کا شکوہ کرتے آئیں ہیں کہ بچے اُن کے ساتھ وقت نہیں گزارتے۔ مگر اب لاک ڈاون کا فائدہ والدین سب سے زیادہ اُٹھا سکتے ہیں، اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزار کر۔'
پچاس سالہ خاتون پروین شہزاد نے اُردو نیوز کو بتایا کہ اُن کے زمانے میں سکولوں سے گرمیوں کی جب تعطیلات ہوتی تھیں تو وہ اپنے والدین کے ساتھ جا کر کیرم بورڈ، لوڈو اور شطرنج لے آتی تھیں۔ 'گرمیوں کی چھٹیوں کا کام روزانہ ختم کر کے سب گھر والے مل کر یہ کھیل کھیلتے تھے مگر ٹیکنالوجی نے یہ سب ختم کر دیا ہے۔'

سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے والدین اپنے بچوں کو دیگر سرگرمیوں کے ذریعے مصروف رکھنے کے آئیڈیاز شئیر کر رہے ہیں (فوٹو:سوشل میڈیا)

بارہ سالہ طالب علم ولید سعید نے لاک ڈاون کے دوران اپنی مصروفیات کے بارے میں بتایا کہ وہ آج کل ٹی وی اور موبائل پر کم وقت گزار رہے ہیں جس کی وجہ  ان کے والد کی جانب سے لائی گئی گیمز ہیں۔ 'ابو نے سکول سے چھٹیاں ہوجانے کے بعد لوڈو اور کیرم بورڈ لا کر دیا، میں اور میری بہن امی ابو کے ساتھ مل کر کھیلتے ہیں، اُس کے بعد ہم کتابیں پڑتے ہیں، تو ہمارا اچھا وقت گزر جاتا ہے۔'
اسی طرح سوشل میڈیا پر دنیا بھر سے والدین اپنے بچوں کو دیگر سرگرمیوں کے ذریعے مصروف رکھنے کے آئیڈیاز شئیر کر رہے ہیں۔ 
فیس بک پر ایکسٹریم کوپنینگ اینڈ بارگینس یو کے نامی گروپ میں ایک خاتون قرنطینہ میں موجود دیگر والدین کو ایک دلچسپ آئیدیا دیتی نظر آئیں۔

گلی ڈنڈا، سٹاپو، پٹھو گرم،آنکھ مچولی، برف پانی، لوڈو، کیرم بورڈ اور شطرنج پرانے زمانے کے چند مقبول کھیل ہیں  (فوٹو:سوشل میڈیا)

انہوں نے چھوٹی چھوٹی پرچیوں پر مختلف طرح کی ایکٹیویٹیز لکھیں جس میں کھانا پکانے سے لے کر دیواروں پر پینٹگ کرنا بھی شامل ہے۔ ان پرچیوں کو ایک پوٹلی میں رکھا جاتا ہے، اور گھر میں موجود بچے اس میں سے روزانہ ایک پرچی اُٹھا کر اُس پر لکھا کام کرتے ہیں۔
اس منفرد خیال کو گروپ میں موجود والدین کی جانب سے کافی پسند کیا جا رہاہے، کیونکہ اس میں وہ تمام سرگرمیاں شامل ہیں جو بچوں کو پسند ہیں اور اس کی وجہ سے ان کی جسمانی اور دماغی نشونما بھی ہوتی ہے۔

شیئر: