Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اب ٹِک ٹاکرز کورونا کی آگاہی پیدا کریں گے؟

ناقدین کے مطابق اتنا اہم کام ٹک ٹاکرز کے حوالے نہیں ہونا چاہیے (فوٹو: سوشل میڈیا)
گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی ملاقات کی تصاویر کے ساتھ ہی یہ اطلاع بھی سامنے آئی کہ انہوں نے ٹک ٹاکرز کو کورونا وائرس سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ذمہ داری تفویض کی ہے۔ ترجمان گورنر ہاؤس نے معاملے پر گفتگو کی تو نسبتاً نئی صورت حال کی نشاندہی کی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ سرور فاؤنڈیشن کے تحت سوشل میڈیا صارفین کی گورنر پنجاب سے چند روز قبل ملاقات ہوئی تھی جس میں چوہدری سرور نے ایکٹوسٹس سے کہا تھا کہ ’سوشل میڈیا کو ذمہ داری سے استعمال کریں اور لوگوں میں آگہی پیدا کریں۔‘
دوسری جانب ٹک ٹاک سٹارز سے کورونا وائرس کی آگاہی سے متعلق کردار ادا کرنے کی گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی تجویز پر مبنی اطلاع کو سوشل میڈیا نے ٹرینڈ کی صورت تو دی لیکن طنز اور تنقید کے ساتھ نئی تجاویز بھی دیں۔
صارفین کہیں تو اتنا اہم کام ٹک ٹاکرز کے حوالے کرنے پر ناراض دکھائی دیے تو کہیں اس معاملے سے متعلق ماہرین، ڈاکٹرز، تحقیق سے وابستہ افراد وغیرہ کے مستقبل سے متعلق سوچتے اور تشویش ظاہر کرتے رہے۔ کشمالہ اظہر نامی یوزر معاملے پر تبصرے کے ساتھ سامنے آئیں تو لکھا کہ ’اگر یہ لطیفہ ہے تو مجھے ہنسی نہیں آئی اور اگر یہ سچ ہے تو میرے خیال میں مجھے ڈگری لینے کا خیال ترک کر کے ٹک ٹاک انسٹال کر لینی چاہیے۔

معز ٹک ٹاکرز کو دی گئی مبینہ ذمہ داری پر تبصرے کے ساتھ سامنے آئے تو انہوں نے لکھا کہ ’آج بہت سے لوگ برا محسوس کر رہے ہوں گے کہ اب ٹک ٹاکرز ہماری رہنمائی کریں گے۔ میرے پیارے ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیسرز، اور تمام تربیت یافتہ افراد آپ برا نہ محسوس کریں کہ ٹک ٹاکرز عوام کو آگاہی فراہم کریں گے۔

سیدہ فاطمہ ردا عابدی نے ٹک ٹاکرز کی نئی ذمہ داری کے تناظر میں جنگ کی تھیم پر مشتمل گیمنگ ایپلی کیشن پب جی کا ذکر کیا تو لکھا کہ ’اگر ٹک ٹاکرز ہماری قوم کو کورونا پر آگاہی فراہم کر سکتے ہیں تو پب جی پلیئرز ہماری فوج کی قیادت کر سکتے ہیں‘۔

کچھ صارف ایسے بھی تھے جو ٹک ٹاکرز پر تنقید سے خوش دکھائی نہیں دیے۔ ایان نے لکھا کہ ’ہم دوسروں کے متعلق تو فیصلے سناتے ہیں لیکن اپنا جائزہ نہیں لیتے۔ جب ماہرین نے معلومات دیں تو ہم سننے کے بجائے سوتے رہے، جب لاکھوں فالوورز رکھنے والے ٹک ٹاکرز سامنے آئے تو ہمیں مسئلہ شروع ہوگیا‘۔

ڈاکٹر شفق ذوالفقار نامی ہینڈل نے کورونا وائرس کی صورت حال میں بغیر امتحان طلبہ کو پروموٹ کرنے کے معاملے کا ذکر کیا اور لکھا کہ ’اب میٹرک پڑھے بغیر پاس کرنے والے ٹک ٹاکرز کوڈ 19 پر آگاہی دیں گے۔ اس قوم کو تعلیم سے کوئی سروکار نہیں۔

ٹاک ٹاکرز کی گورنر پنجاب سے ملاقات اور آگاہی مہم کے لیے ان کے کردار کو کچھ صارفین نے میمز کے سہارے مزاح میں بدلنے کی کوشش بھی کی۔

رافع صدیقی نے ٹک ٹاکرز کی پذیرائی پر دیگر پلیٹ فارمز استعمال کرنے والوں کے تاثرات کا اندازہ لگانے کی کوشش کی تو حیرت ظاہر کرتی ایک تصویر کے ساتھ اپنا تبصرہ لکھا۔

ڈاکٹر عمیر علی نے ٹک ٹاکرز سے کورونا کی آگاہی لینے کے معاملے پر تبصرے کے لیے ٹک ٹاک ہی کی ایک ویڈیو کا سہارا لیا تو ممکنہ نتیجے سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا۔
ٹک ٹاکرز پر تنقید کا معاملہ بڑھتا دیکھ کر کچھ صارف میمز کے ذریعے ان کے جذبات بھی اجاگر کرتے رہے۔

خدیجہ عارف نے گفتگو میں حصہ لیا تو لکھا کہ ’ٹک ٹاک کی فین نہیں لیکن مثبت سوچیں‘۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹک ٹاک دیکھنے والے صارفین کی تعداد اور تنقید کرنے والوں کا تقابل بھی کیا۔

اردو نیوز کے نامہ نگار رائے شاہنوار کے رابطہ کرنے پر گورنر ہاؤس لاہور کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں ایسی کوئی ملاقات ان کے علم میں نہیں جس میں کوئی ایسا فیصلہ ہوا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ ’ڈیڑھ ہفتہ قبل گورنر پنجاب نے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے ملاقات ضرور کی تھی جو سرور فاؤنڈیشن کے زیراہتمام تھی۔ ملاقات معمول کی تھی اور اس میں گورنر نے ایکٹوسٹس سے کہا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کو ذمہ داری سے استعمال کریں اور لوگوں میں آگہی پیدا کریں۔ اس کو ایسے بیان کرنا کہ حکومت نے کوئی حکمت عملی بنائی ہے یہ درست نہیں۔
  • واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: