Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آسٹریلیا: بونڈائی بیچ پر حملہ آور کو قابو کرنے والے احمد کون ہیں اور انہیں اب تک کیا انعامات ملے؟

دنیا کی امیر ترین شخصیات میں سے ایک نے بونڈائی بیچ واقعے میں بہادری دکھاتے ہوئے حملہ آور کو قابو کرنے والے احمد ال حمد کے لیے انعام کا اعلان کیا ہے۔
سکائی نیوز کے مطابق یہودی نژاد امریکی سرمایہ کاری بینکر بل ایکمین، جن کی مجموعی دولت کا تخمینہ 9.5 ارب ڈالر سے زائد ہے، نے آسٹریلوی شہری کی بہادری پر اسے انعام دینے کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا 'کیا کوئی تصدیق شدہ فنڈ قائم کر سکتا ہے تاکہ ہم اسے اور اس کے خاندان کو انعام دے سکیں؟'
آن لائن قائم کیے گئے چند فنڈ ریزرز میں سے ایک، جو بظاہر احمد کے نام پر بنایا گیا تھا، پیر کی دوپہر تک 3 لاکھ 6 ہزار ڈالر جمع کر چکا تھا۔
سب سے بڑی عطیہ کی گئی رقم 99,999 ڈالر تھی، جو گو فنڈ می کی ویب سائٹ کے مطابق ولیم ایکمین کی جانب سے دی گئی۔

بل ایکمین کا شمار دنیا کی امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

اتوار کے روز سڈنی کے بونڈائی بیچ پر یہودیوں کی ایک مذہبی تقریب کے دوران ہونے والے حملے میں ایک راہگیر کو ویڈیو میں مسلح شخص کو قابو کرتے اور اس کا ہتھیار چھینتے ہوئے دیکھا گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے ویڈیو وائرل ہوئی اور متعلقہ شخص کی شناخت 43  سالہ احمد کے نام سے ہوئی جو سڈنی میں پھلوں کی دکان چلاتے ہیں۔ احمد کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ان کے اقدام نے ممکنہ طور پر کئی جانیں بچا لیں۔
دوسری جانب بونڈائی بیچ پر فائرنگ کرنے والوں کے نام ساجد اکرم اور نوید اکرم بتائے جاتے ہیں۔ آسٹریلوی وزیر داخلہ کے مطابق دونوں باپ بیٹا ہیں۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ ساجد اکرم 1998 میں سٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا آئے تھے جن کو 2001 میں پارٹنر ویزا دیا گیا تھا، اور وہ تب سے ’ریذیڈنٹ ریٹرن ویزا‘ پر تھے۔ ساجد اکرم کا بیٹا نوید اکرم ایک آسٹریلوی شہری ہے جو یہاں 2001 میں پیدا ہوا۔‘
دونوں باپ بیٹے نے اتوار کی شام بونڈائی میں ایک حنوکا تقریب پر فائرنگ کی۔ اس حملے میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ پیر کی دوپہر تک درجنوں افراد زخمی حالت میں زیرِ علاج تھے۔
بتایا گیا ہے کہ 50 اور 24 سالہ ملزمان نے تقریباً پانچ منٹ تک فائرنگ کی، زیادہ تر گولیاں ساحل کے شمالی حصے میں واقع ایک کار پارک کے اوپر بنے پل سے چلائی گئیں۔
تاہم، ایک مختصر لمحے کے دوران ویڈیو میں اب ہلاک ہو چکے ساجد کو پل سے نیچے آتے ہوئے ایک  لانگ رینج گن کے ساتھ دیکھا گیا۔
ایک اور زاویے سے لی گئی فوٹیج میں احمد ال احمد کو دکھایا گیا جو ایک گاڑی کے پیچھے سے نکل کر خاموشی سے ساجد کے پیچھے پہنچے اور اس سے اسلحہ چھین لیا۔

سڈنی کے علاقے سدرلینڈ شائر سے تعلق رکھنے والے احمد ال احمد کو اتوار کی شام بانڈی میں ایک مسلح حملہ آور کا مقابلہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ تصویر: ٹوئٹر

احمد کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ اس وقت بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور ان کے بازو اور ہاتھ میں گولی لگنے کے باعث سرجری کی جا رہی ہے۔
نیو ساؤتھ ویلز کے وزیرِ اعلیٰ کرس منس نے حملے کے فوراً بعد احمد کو 'حقیقی ہیرو' قرار دیا۔
اتوار کی رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ آسٹریلوی شہریوں نے 'دوسروں کی مدد کے لیے خطرے کی طرف دوڑ لگائی'۔
انہوں نے کہا، 'یہ آسٹریلوی ہیرو ہیں، اور ان کی بہادری نے جانیں بچائی ہیں۔'
فائرنگ کی فوٹیج میں احمد کو ایک گاڑی کے پیچھے جھکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ساجد ہاتھ میں رائفل لیے آگے بڑھ رہا تھا۔
احمد نے اس کی پشت پر جھپٹ کر اسے قابو کیا، کشمکش کے بعد 50 سالہ حملہ آور کے ہاتھ سے رائفل چھین لی، جس سے وہ پیچھے کی طرف گر پڑا۔
بعد ازاں احمد کو بندوق حملہ آور کی طرف تانے ہوئے دیکھا گیا جبکہ حملہ آور اٹھ کر پیچھے ہٹنے لگا۔ پھر احمد نے بندوق ایک درخت کے ساتھ ٹکا دی اور اپنا ہاتھ بلند کر دیا۔
پیر کی دوپہر تک ہلاکتوں کی تعداد سولہ ہو چکی تھی، جن میں ساجد بھی شامل ہے، جبکہ 38 افراد اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
اس فائرنگ کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تفتیش کے لیے خصوصی اختیارات دیے دیے گئے ہیں۔

شیئر: