Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ماسک نہ پہننے پر کرنٹ کیوں لگائے گئے؟

ماسک نہ پہننے پر کرنٹ لگانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر سخت عوامی ردعمل سامنے آیا۔ فوٹو: ویڈیو گریب
’میں اور میرا دوست اسد پچھلے ہفتے گھر سے نکلے تو ماسک نہیں پہنا ہوا تھا، جلدی میں تھے کچھ سودا سلف لانا تھا۔ جیل روڈ پر یونیورسٹی گیٹ کے سامنے پولیس کا ناکہ لگا ہوا تھا ہمیں بھی روک لیا گیا۔ سول کپڑوں میں ایک شخص جس کے ہاتھ میں ایک کالے رنگ کا ڈنڈا تھا، نے مجھے موٹر سائیکل سے اتارا سڑک کے ایک طرف کھڑا کرتے ہوئے مجھے پوچھا کہ ماسک کیوں نہیں پہنا، میں نے معذرت کی اور کہا کہ آئندہ احتیاط کروں گا۔ اسی دوران اس نے وہ کالا ڈنڈا میرے جسم کے نزدیک کیا تو ایک زبردست کرنٹ میرے جسم میں دوڑ گیا اور میں نے چیخ و پکار شروع کر دی۔ یہی سلوک میرے دوست کے ساتھ بھی کیا گیا۔‘
یہ کہانی محمد عاطف کی ہے جو پاکستان کے شہر فیصل آباد کے رہائشی ہیں اور ان چند افراد میں سے ایک ہیں جن کو ماسک نہ پہننے پر گزشتہ ہفتے بجلی کے جھٹکے لگائے گئے۔
ڈپٹی کمشنر فیصل آباد محمد علی نے حکومتی اہلکاروں کی طرف سے شہریوں کو بجلی کے جھٹکے لگانے کی ویڈیوز منظر عام پر آنے پر سول ڈیفنس کے چار اہلکاروں احمد علی، محمد عمران، یوسف علی اور قدیر احمد کو معطل کرتے ہوئے ان واقعات کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
بجلی کے جھٹکے کیوں لگائے گئے؟
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان محمد اویس نے اردو نیوز کو بتایا کہ سول ڈیفنس کو تین الیکٹرک شاکر electic shocker مارچ کے مہینے میں اس وقت مہیا کیے گئے جب تفتان سے آئے افراد کو قرنطینہ کیا گیا اور وہ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں سے جھگڑا کر کے بھاگنے کی کوشش کرتے تھے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے شہریوں کو کرنٹ لگانے کی مذمت کی۔ فوٹو: سوشل میڈیا

محمد اویس کے مطابق ’یہ ڈیوائسز پانچ واٹ کا کرنٹ چھوڑتی ہیں اور انسانی صحت کے لہے بالکل بھی نقصان دہ نہیں ہیں۔ انہیں دنیا بھر میں ہنگامی صورت حال کےلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سول ڈیفنس نے جب ماسک کی پابندی کروانے کےلیے انہیں عوامی جگہوں پر استعمال کیا تو اس کا فوری نوٹس لیا گیا کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے ایسے کوئی احکامات جاری نہیں کئے تھے۔ اب اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ ان ڈیوائسز کو کیوں استعمال کیا گیا۔‘
محکمہ شہری دفاع کا کہنا ہے کہ صرف مخصوص حالات میں ان ڈیوائسز کو رکھنے کی اجازت دی گئی تھی جس میں اہلکاروں کی اپنی حفاظت بھی ضروری تھی۔ ضلعی انتظامیہ نے عوامی شکایات اور ردعمل کے بعد محکمہ شہری دفاع سے تینوں الیکٹرک شاکر واپس لے لیے ہیں۔

پاکستانی میں شہریوں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی بدسلوکی کے واقعات چاروں صوبوں سے رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

فیصل آباد میں انوکھی سزائیں
بجلی کے جھٹکے تو ایک طرف فیصل آباد کی ضلعی انتظامیہ نے کئی اور انوکھے طریقوں سے لوگوں کو ماسک نہ پہننے پر سزائیں دیں جن کی ویڈیوز خود ہی سوشل میڈیا پر وائرل بھی کی گئی ہیں۔
کئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں کو روک کر اگر ان میں ایسے افراد بیٹھے ہیں جنہوں نے ماسک نہیں پہنے ہوئے تو ان کی گاڑیوں کے ٹائروں سے ہوا نکال دی گئی۔
ایسی بھی کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں ماسک نہ پہننے والوں کو دھوپ میں دیوار کی طرف منہ کر کافی دیر تک کھڑا رکھا گیا۔ اسی طرح کرنٹ لگانے اور شہریوں کو تھپڑ مارنے جیسی ویڈیوز بھی منظر عام پر آئیں۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ محمد اویس کہتے ہیں کہ کرنٹ اور تھپڑوں کے  واقعات کا سخت نوٹس لیا گیا ہے اور سختی سے خبردار کیا گیا ہے قانون کو ہاتھ میں نہ لیا جائے البتہ دیگر طریقے جو اپنائے جا رہے ہیں وہ قابل قبول ہیں تاکہ عوام میں ماسک پہننے کا شعور اجاگر ہو۔

  کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

انسانی حقوق کی خلاف ورزی
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے فیصل آباد میں ماسک نہ پہننے پر شہریوں کوکرنٹ لگانے کے واقعات کی مذمت کی ہے۔
ایچ آر سی پی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون پر عمل درآمد کروانے کے نام پر شہریوں کو اذیت دینا نا قابل قبول ہے اور غیر انسانی طریقہ کار ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کرنٹ کا استعمال پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے. اسی طرح اقوام متحدہ کے انسداد تشدد کنونشن کی بھی خلاف ورزی ہے۔
ایچ آر سی پی کے مطابق کرنٹ لگانے والے ہتھیار پولیس کو دینا ہی خلاف قانون ہے کیونکہ پاکستانی قانون میں اس طرح کے ہتھیار پولیس کو دینے کا کوئی ذکر نہیں۔

شیئر: