Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کورونا سے تحفظ کے دعوے کی حقیقت کیا ہے؟

اگست کے دوران سعودی عرب میں کورونا متاثرین کی شرح کم ہوئی ہے- فوٹو اخبار 24
وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر محمد العبد العالی نے کسی بھی وائرس سے متاثر افراد کی صحت یابی پر ان کے کووڈ 19 سے محفوظ ہوجانے کے دعوے کی نفی کردی-
اخبار 24 کے مطابق وزارت صحت کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان دنوں ہمارے یہاں مملکت میں یہ دعوی زور و شور سے کیا جارہا ہے کہ جو لوگ کسی وائرس سے متاثر ہوکر اس سے صحت یاب ہوجاتے ہیں تو وہ نئے کورونا وائرس لگنے سے محفوظ ہوجاتے ہیں- ان کے جسم میں کورونا وائرس سے نمٹنے کی فطری استعداد پیدا ہوجاتی ہے- یہ دعوی بے بنیاد ہے- اب تک اس کے حق میں کوئی سائنٹفک ثبوت سامنے نہیں آیا-
العبد العالی نے کہا کہ کئی لوگ اس سلسلے میں انفلوئنزا وائرس کا تذکرہ خاص طور پر کررہے ہیں یہ بالکل غلط ہے- معاملہ بالکل برعکس ہے- انفلوئنزا وائرس لگنے سے کسی بھی انسان کی قوت مدافعت کمزور ہوجاتی ہے- انفلوائنزا وائرس سے نجات ملنے پر نئے کورونا وائرس سے تحفظ حاصل نہیں ہوتا-
یاد رہے کہ ترجمان نے بتایا کہ اگست کے دوران سعودی عرب میں کورونا سے متاثرین کی شرح 11.8 فیصد کم ہوئی ہے- اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مقامی شہری اور مقیم غیرملکی دستانوں اور ماسک کا استعمال بند یا کم کردیں اور سماجی فاصلے کی پابندی ترک کردیں- وائرس سے بچاؤ کے لیے آئندہ بھی ماسک، دستانوں اور سماجی فاصلے کی پابندی لازمی ہوگی-

 

خود کو اپ ڈیٹ رکھیں، واٹس ایپ گروپ جوائن کریں

شیئر: