Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’اوورسیز فاسٹ ٹریک عدالتوں کا قیام آخری مراحل میں ہے‘

زلفی بخاری نے کہا کہ وزارت قانون سے منظوری کے بعد بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا (فوٹو: منسٹری آف اوورسیز پاکستانیز)
سٹیزن پورٹل پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے بہتر حل کے لیے اعلی سطح کی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
وزارت اوورسیز پاکستانیز کے اعلامیے کے مطابق اجلاس کی صدارت وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز زلفی بخاری نے کی۔
آئی جی سندھ اور خیبر پختونخوا نے اجلاس کو بتایا کہ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات سے متعلق شکایات سب سے زیادہ ہیں۔
 
ان کے مطابق وہ عدالتی کیسز میں مداخلت کے مجاز نہیں۔
زلفی بخاری نے کہا کہ اوورسیز فاسٹ ٹریک عدالتوں  کا قیام آخری مراحل میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سمری وزارت قانون کو ارسال کر دی گئی ہے۔
’وزارت قانون سے منظوری کے بعد بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔‘
معاون خصوصی نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کثیر تعداد میں زرمبادلہ بھیجتے ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شکایات کے فوری حل کو یقینی بنایا جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب اوورسیز کمیشن ایک کامیاب ماڈل ہے۔ ’ بلوچستان اور خیبر پختونخوا بھی اس طرز پر ایک کمیشن بنائیں۔‘
وزیراعظم ڈیلوری یونٹ (پی ایم ڈی یو) نے معاون خصوصی کو بیرون ملک پاکستانیوں کی شکایات پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں تمام صوبوں کے آئی جی اور سیکرٹری لیبر کی ویڈیو لنک کے ذریعے خصوصی شرکت کی۔
اجلاس میں وزارت داخلہ اور پی ایم ڈی یو کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

زلفی بخاری کے مطابق پنجاب اوورسیز کمیشن ایک کامیاب ماڈل ہے (فوٹو: منسٹری آف اوورسیز پاکستانیز)

خیال رہے حال ہی میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے قائم کی گئی ایپ ’کال سرزمین‘ کو پاکستان سٹیزن پورٹل میں ضم کر دیا گیا تھا۔ 
وزیراعظم ڈیلوری یونٹ (پی ایم ڈی یو) کے ڈپٹی سیکرٹری عادل سعید صافی نے اردو نیوز کو بتایا تھا کہ ’ کال سر زمین ایپ کو سٹیزن پورٹل میں ہی ضم کر دیا گیا ہے، کیونکہ شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کے لیے پہلے سے ہی سٹیزن پورٹل کام کر رہا تھا۔‘ 
خیال رہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل سننے اور ان کے فوری حل کے لیے حکومت پاکستان نے جنوری 2020 میں  وزارت سمندر پار پاکستانی کے زیر نگرانی ’کال سر زمین‘ کے نام سے ایپ متعارف کروائی تھی۔

شیئر: