Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بلوچستان میں سرکاری افسران کی لائیو لوکیشن کی ساتھ ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ کیوں؟

ضلعی افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ کوئٹہ میں رہنے کے بجائے فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بلوچستان حکومت نے فیلڈ افسران کی حاضری اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے لائیو لوکیشن پر مبنی ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِصدارت ہونے والے ایک اعلٰی سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، معیار اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں مختلف محکموں کے سیکریٹریوں نے اپنے اپنے شعبوں میں جاری منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بعض منصوبوں کی رفتار سُست ہے جبکہ کئی منصوبے مختلف انتظامی اور تکنیکی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیراعلٰی نے ضلعی افسران سے کہا کہ وہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رہنے کے بجائے فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور منصوبوں کی نگرانی کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘عوامی مسائل کے بروقت حل اور ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مؤثر فیلڈ مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔‘
سرفراز بگٹی نے تمام انتظامی سربراہان کو ہدایت کی کہ ایسے افسران جو 10 دن سے زائد عرصے تک فیلڈ سے غیرحاضر پائے جائیں اُن کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلٰی کا کہنا تھا کہ مجوزہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے تحت افسران کی حاضری لائیو لوکیشن کے ذریعے چیک کی جائے گی۔
’اس سے نہ صرف ان کی موجودگی کی تصدیق ممکن ہوگی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کو بھی حقیقی وقت میں دیکھا جا سکے گا۔‘
سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ صوبے میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے جُون سے قبل ہر صورت مکمل کیے جائیں اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلٰی نے کہا کہ اس نظام سے حکومتی کارکردگی میں بہتری آئے گی، نگرانی کا عمل شفاف ہوگا اور عوامی وسائل کے استعمال میں جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’فیلڈ سے 10 روز سے زائد غیرحاضر رہنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی‘ (فائل فوٹو: اے پی)

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ان شکایات کے بعد کیا گیا کہ صوبے کے دُوردراز علاقوں میں تعینات کئی سرکاری افسران فیلڈ میں ڈیوٹی دینے کے بجائے اپنا زیادہ تر عرصہ کوئٹہ میں گزارتے ہیں۔
ان ہی شکایات کے ازالے اور افسران کی نگرانی کے لیے اب حکومت نے صوبے میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام کے تحت سرکاری افسران کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ہفتے کے مقررہ دنوں میں اپنی لائیو لوکیشن بھیجیں تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر یا پھر فیلڈ میں موجود ہیں بھی یا نہیں۔
بلوچستان میں سرکاری ملازمین کے حوالے سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ اُن کی بڑی تعداد ڈیوٹیوں پر حاضر ہوئے بغیر تنخواہیں وصول کر رہی ہے۔
جنوری 2024 میں اُس وقت کے نگراں صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر قادر بخش نے انکشاف  کیا تھا کہ بلوچستان کے دو ہزار سے زائد اساتذہ گذشتہ کئی برسوں سے بیرونِ ملک بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔

شیئر: