کوئٹہ: پولیس کی مبینہ فائرنگ سے 18 سالہ نوجوان ہلاک، لواحقین کا احتجاج
پیر 13 اپریل 2026 18:53
زین الدین احمد، -اردو نیوز، کوئٹہ
ایس پی سریاب عابد بخاری کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں سکیورٹی کی صورتحال پیچیدہ ہے(فائل فوٹو: بلوچستان پولیس)
کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں کی مبینہ فائرنگ سے 18 سالہ نوجوان ہلاک ہو گیا ہے جس کے بعد لواحقین نے لاش کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کی گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
لواحقین کے مطابق مقتول خالد ساسولی کا تعلق ضلع نوشکی سے تھا اور وہ کوئٹہ میں ایک دکان پر کام کرتے تھے۔
واقعہ سنیچر کی شب اس وقت پیش آیا جب وہ ہسپتال میں خون کا عطیہ دینے کے بعد واپس آ رہے تھے۔
مقتول کے والد امیر محمد نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو پولیس کے ایگل سکواڈ نے ایک ناکے پر فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق ’خالد اس وقت ہسپتال سے واپس آ رہے تھے جہاں وہ ایک خاتون کو خون دینے گئے تھے۔‘
والد کے بقول ’خالد خود بھی بیمار تھے اور ان کے تین آپریشن ہو چکے تھے تاہم ایک مریضہ کو خون کی ضرورت کی اطلاع پر وہ ہسپتال گئے اور خون دے کر واپس آ رہے تھے کہ راستے میں یہ واقعہ پیش آیا۔ وہ کسی کی جان بچانے گئے تھے مگر ظالموں نے ان کی ہی جان لے لی۔‘
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ’زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کرنے کے بعد بھی ان کے بیٹے پر تشدد کیا گیا اور وہ اگلی صبح دم توڑ گئے۔‘
لواحقین کے مطابق پولیس اہلکاروں نے رشتہ داروں کو یہ بھی کہا کہ وہ غریب ہیں اس لیے ایمبولینس کا خرچ پولیس برداشت کر لے گی اور وہ خاموشی سے میت کو نوشکی لے جا کر دفنا دیں۔
دوسری جانب پولیس حکام نے واقعے سے متعلق مختلف مؤقف پیش کیا ہے۔ ایس پی سریاب عابد بخاری کے مطابق ’نوجوان اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار تھا اور انہیں شہر میں قائم دو مختلف ناکوں پر رکنے کا اشارہ کیا گیا تاہم وہ نہیں رُکے۔‘
پولیس کے مطابق ’کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اور چوری و ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافے کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں ناکے قائم کیے گئے تھے اور اہلکاروں کو ایک ایسے تین گروہ کی تلاش تھی جو ایک موٹر سائیکل پر وارداتیں کرتا ہے۔‘
ایس پی کے مطابق ’یہ بھی تین لوگ تھے اور ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے اس لیے انہیں مشتبہ جانا گیا اور بلوچستان یونیورسٹی کے قریب پولیس کے ایگل سکواڈ کے اہلکاروں نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن وہ فرار ہو گئے جس کے بعد دیگر ناکوں کو اطلاع دی گئی۔ پدگلی چوک پر بھی انہیں روکنے کی کوشش کی گئی مگر وہ نہ رکے جس پر پولیس نے ان کا تعاقب کیا۔‘
ایس پی کا کہنا ہے کہ ’ایگل سکواڈ کے اہلکاروں کے بیان کے مطابق ملزمان نے فائرنگ کی جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی۔ بعد ازاں ایک بند گلی میں تینوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا جن میں سے ایک زخمی تھا۔ زخمی نوجوان کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا آپریشن کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔‘
ایس پی کے مطابق ’واقعے کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لے لیا گیا ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ متاثرہ خاندان اور ایگل سکواڈ کے اہلکاروں کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کسی اہلکار کی غفلت یا زیادتی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘
ایس پی سریاب عابد بخاری کا کہنا تھا کہ ’کوئٹہ میں سکیورٹی کی صورتحال پیچیدہ ہے اور ٹارگٹ کلنگ سمیت پولیس پر حملوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ’ایسے حالات میں اگر کوئی شخص ناکے پر نہیں رکتا تو اس پر شک پیدا ہوتا ہے۔‘
ادھر بلوچستان اسمبلی میں بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی آغا احمد عمرزئی نے معاملہ ایوان میں اٹھاتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن لیڈر یونس زہری نے کہا کہ ’پولیس کو کسی بھی شہری کو گولی مارنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے اور اگر کوئی ملزم ہو تو اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے۔‘
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اس کی تحقیقات جاری ہے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد مزید اقدامات کیے جائیں گے جبکہ متاثرہ خاندان کو معاوضہ بھی فراہم کیا جائے گا۔‘
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کوئٹہ میں پولیس پر ماورائے عدالت قتل کے الزام کا یہ دوسرا واقعہ ہے ۔ اس سے قبل یکم اپریل کو درخشان پولیس چوکی میں پولیس کی حراست کے دوران ایک نوجوان کی پراسرار موت ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق ملزم نے خودکشی کی تھی جبکہ اہل خانہ نے اسے قتل قرار دیا تھا۔
