Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان کی اسلام آباد میں امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی تجویز

ایران کے پارلیمانی سپیکر مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے تھے (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کے دو سرکاری عہدیداروں نے کہا ہے کہ امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی ختم ہونے سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی میزبانی کی تجویز دی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں اے پی اور ایف پی سے سینیئر پاکستانی عہدیداروں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی ہے۔
اے پی کے مطابق عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تجویز کا انحصار اس امر پر ہوگا کہ آیا فریقین کسی دوسرے مقام کی درخواست کرتے ہیں۔
ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ پہلی بات چیت جو بغیر کسی معاہدے تک پہنچے ختم ہو گئی تھی، وہ کسی یکطرفہ کوشش کے بجائے ایک جاری سفارتی عمل کا حصہ تھی۔
اے ایف پی بات کرتے ہوئے ایک سورس نے کہا کہ ’اگرچہ تاریخوں کا تعین ابھی نہیں ہوا تاہم یہ ملاقات جلد ہو سکتی ہے۔ ہم جنگ بندی میں توسیع کے لیے بھی کام کر رہے ہیں تاکہ موجودہ ڈیڈلائن کے بعد بھی اس میں اضافی وقت شامل کیا جا سکے۔‘
دوسری جانب امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے فوکس نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران مذاکرات میں جوہری معاملات پر ’کسی حد تک آگے‘ بڑھا ہے۔
’پاکستان کو امن بحال کرنے کا موقع ملا ہے‘
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے پاکستان کو جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کا موقع ملا ہے اور یہ پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ ہے کہ جنگ بندی اب تک برقرار ہے۔

اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکہ کی نمائندگی کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

مزید مذاکرات، وائٹ ہاؤس نے کوئی اشارہ نہیں دیا
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ آیا مزید مذاکرات کی تیاری ہو رہی ہے اور تبصرے کے لیے بھجوائی گئی ان درخواستوں کا جواب نہیں دیا جن میں پوچھا گیا تھا کہ آیا مزید مذاکرات پر غور کیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور مذاکراتی ٹیم نے امریکہ کی ریڈلائنز کو واضح کر دیا ہے اور اب معاہدے کے لیے ایرانیوں کی بے چینی بڑھے گی کیونکہ ناکہ بندی اب مؤثر ہو چکی ہے۔‘
’امریکہ ایران مذاکرات کے دوسرے دور کی طرف بڑھ سکتے ہیں‘
دو امریکی حکام اور پیش رفت سے واقفیت رکھنے والے ایک اور سورس کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے نئی بات چیت پر غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد اگلے ہفتے ختم ہونے والی جنگ بندی کی مدت کے خاتمے سے قبل اس جنگ کو ختم کرنا ہے جو چھ ہفتے تک جاری رہی اور دو ہفتے کے سیز فائز کی وجہ سے عارضی طور پر رکی ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں مذاکرات کے موقع کے لیے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے (فوٹو: اے ایف پی)

تینوں ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے نئے دور کے حوالے سے بات چیت ابھی جاری ہے جبکہ ثالثی کرنے والے ممالک میں سے ایک کے سفارت کار نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن میں اس پر اتفاق بھی ہوا ہے۔
امریکی عہدیداروں اور سفارت کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس میں اسی سطح کا وفد شریک ہو گا۔
ان کے مطابق ’پاکستان (اسلام آباد) کو ایک بار پھر میزبان کے طور پر زیر بحث لایا جا رہا ہے تاہم جنیوا کو بطور مقام چنے جانے کا امکان بھی ہے، ابھی تک مقام اور وقت کا فیصلہ نہیں ہوا وار اس بارے میں بات چیت جمعرات کو ہو سکتی ہے۔‘
خیال رہے 11 اپریل کو اسلام آباد میں تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے والے مذاکرات بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہو گئے تھے اور ڈی جے وینس نے واپس روانہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

 

شیئر: