Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کے چیمپئن ریسلر نوید افکاری کو پھانسی

گذشتہ ہفتے ایران نے نوید افکاری کے اعترافی بیان کو ٹی وی پر دکھایا تھا (فوٹو: ٹوئٹر)
ایران میں حکام نے مبینہ طور پر ایک شخص کو قتل کرنے پر ایک ریسلر کو پھانسی دے دی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی حکام سے کہا تھا کہ اس 27 سالہ آدمی کی جان بخش دی جائے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران کے صوبہ فارس کے چیف جسٹس کازم موسوی نے سنیچر کو کہا کہ 'حسن تورکامان کے قاتل نوید افکاری کو پھانسی آج سنیچر کی صبح شیراز کی عادل آباد جیل میں دی گئی۔'
نوید افکاری کا کیس سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنا۔ اس حوالے سے چلائی گئی مہم کے مطابق انہیں اور ان کے بھائیوں کو ایران کی حکومت کے خلاف 2018 میں ہونے والے مظاہروں میں شرکت کرنے پر نشانہ بنایا گیا۔
حکام نے نوید افکاری پر الزام لگایا تھا کہ حسن تورکامان نے واٹر سپلائی کمپنی کے ایک کارکن حسن تورکامان کو ملک میں بدامنی کے دوران شیراز میں قتل کر دیا تھا۔
گذشتہ ہفتے ایران نے نوید افکاری کے اعترافی بیان کو ٹی وی پر دکھایا تھا، تاہم روئٹرز کے مطابق ٹی وی پر چلنے والا اعترافی بیان ان ہزاروں ایسے بیانات جیسا تھا جو کہ مبینہ طور پر گذشتہ دہائی میں ایران میں ریکارڈ کروائے گئے ہیں۔
نوید افکاری کے کیس سے ایران میں سزائے موت ختم کرنے کے لیے ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔
جیل میں قید انسانی حقوق کی وکیل نسرین سوتودیہ، جو کہ تہران کی ایوین جیل کی صورت حال کے خلاف ایک ماہ سے بھوک ہڑتال پر ہیں، نے پیغام دیا ہے کہ وہ نوید افکری کی حمایت کرتی ہیں۔
چند روز قبل امریکہ کے صدر ٹرمپ نے نوید افکری کے کیس سے متعلق ٹویٹ کی تھی کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران کے حکام نوید افکاری کی سزائے موت ختم کردیں۔
ٹرمپ کی ٹویٹ کا جواب ایران نے سرکاری چینل پر چلنے والے ایک 11 منٹ کی ٹی وی رپورٹ کی صورت میں دیا تھا جو کہ نوید افکاری کے بارے میں تھی۔

صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایرانی حکام نوید افکاری کی سزائے موت ختم کردیں (فوٹو: اے ایف پی)

ٹی وی رپورٹ میں 'مقتول' حسن تورکامان کے والدین کو روتا ہوا دکھایا گیا۔ رپورٹ کی فوٹیج میں ایک موٹر بائیک کے پیچھے نوید افکاری کی تصویر دکھائی گئی جس پر لکھا تھا کہ انہوں نے حسن تورکامان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، تاہم اس میں اس بات کا ذکر نہیں کہ نوید افکری نے مبینہ طور پر ایسا کیوں کیا۔
سرکاری ٹی وی کی رپورٹ میں دھندلی کی ہوئی پولیس دستاویزات بھی دکھائی گئیں اور بتایا گیا کہ نوید افکاری نے ذاتی تنازع کی وجہ سے حسن تورکامان کا قتل کیا تھا۔
اس میں بتایا گیا تھا کہ نوید افکاری کا موبائل فون اس علاقے میں تھا۔ ایک فوٹیج بھی دکھائی گئی جس میں نوید افکاری کو ایک گلی میں اپنے فون پر بات کرتے ہوئے دکھایا گیا۔  
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے ٹرمپ کی ٹویٹ کے جواب میں کہا کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے کورونا وائرس کی وبا کے دوران ایران کے ہسپتالوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔
'ٹرمپ ایک قاتل کی زندگی کو لے کر پریشان ہیں جبکہ انہوں نے کئی ایرانی مریضوں کی زندگیاں سخت پابندیاں عائد کر کے خطرے میں ڈالی ہیں۔'

شیئر: