Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی ناکامی ’حیرت کی بات‘ کیوں نہیں تھی؟

پاکستان سری لنکا سے میچ جیتنے کے باوجود ایونٹ سے باہر ہو گیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
سری لنکا کے خلاف وہ لمحہ شاید ٹی20 ورلڈ کپ کی مکمل تصویر تھا جب پاکستانی سپنر عثمان طارق نے سست روی سے گیند کروائی اور معمولی سی غلطی کے بعد سری لنکا نے وہ سنگل حاصل کیا جس نے پاکستان کو سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا۔
اس منظر میں نہ تماشائیوں کا ردعمل تھا اور نہ ہی کھلاڑیوں کی باڈی لینگویج میں کوئی ہلچل، جیسے سب جانتے ہوں کہ انجام یہی ہونا تھا۔ یہ مسلسل چوتھا بڑا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ایونٹ تھا جہاں پاکستان سیمی فائنل تک نہیں پہنچ سکا۔
ای ایس پی این کے مطابق حیرت کی بات یہ ہے کہ تیاری کے اعتبار سے پاکستان کسی بھی ٹیم سے پیچھے نہیں تھا۔ گزشتہ برس اپریل میں چھ ہفتوں کی پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل)، اس کے فوراً بعد بنگلہ دیش کے خلاف سیریز اور پھر لگاتار انٹرنیشنل میچز اور ایونٹس میں پاکستان حصہ لیتا رہا۔
ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان نے 34 ٹی20 انٹرنیشنل میچ کھیلے جن میں سے 24 جیتے۔ دو سہ ملکی سیریز اپنے نام کیں اور ایشیا کپ کا فائنل بھی کھیلا۔ دوسری جانب ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل پاکستان نے کرکٹ کے دوسرے فارمیٹس کو تقریبا پس پشت ہی ڈال دیا تھا، 34 ٹی20 میچز کے مقابلے میں پاکستان نے صرف دو ٹیسٹ اور چھ ون ڈے میچز کھیلے۔
کپتان سلمان آغا نے اعلان کیا تھا کہ ٹیم ’بے خوف مگر غیر محتاط نہیں‘ کھیلے گی۔ کاغذوں پر نتائج متاثر کن لگتے تھے مگر ان کامیابیوں کا تناظر کمزور تھا۔ زیادہ تر فتوحات ایسی ٹیموں کے خلاف آئیں جو خود ورلڈ کپ کی دوڑ میں مضبوط دعوے دار نہیں تھیں یا پھر اہم کھلاڑیوں کے بغیر میدان میں اتری تھیں۔ جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی تھی۔ اس کے برعکس انڈیا کے خلاف تینوں مقابلے شکست پر ختم ہوئے جو اصل معیار کا امتحان تھے۔
پاکستان نے تیاری تو کافی کر رکھی تھی مگر یہ واضح نہیں تھا کہ ٹیم کیا سیکھ رہی ہے اور کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔ سیریز در سیریز ایک جیسی لگنے لگیں، فتوحات ہوتی رہیں مگر خامیاں ان فتوحات کے پیچھے چھپی رہیں۔

حکمت عملی کا فقدان

ٹیم کے انتخاب اور حکمت عملی میں تضادات واضح تھے۔ بابر اعظم کے کردار پر غیر یقینی برقرار رہی۔ کبھی ان کے سٹرائیک ریٹ پر تنقید ہوئی، کبھی انہیں مڈل آرڈر پر کھیلایا گیا، حالانکہ وہ اس پوزیشن پر شاذ و نادر ہی کھیلے تھے۔
نوجوان جارحانہ بیٹرز حسن نواز اور محمد حارث کو مستقبل کا ستون قرار دیا گیا مگر چند ہی ماہ میں وہ منظرنامے سے غائب ہو گئے۔

سلمان علی آغا انفرادی طور پر بھی کوئی خاص کارکرگی نہیں دکھا سکے (فوٹو: اے ایف پی)

اسی طرح حارث رؤف جو بی بی ایل میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر تھے، ایشیا کپ کے بعد ٹی20 ٹیم سے باہر رہے۔ نسیم شاہ کو محدود میچوں کے باوجود ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل کیا گیا۔ ابرار احمد، جو گزشتہ سال پاکستان کے مؤثر ترین سپنر رہے، انڈیا کے خلاف ایک میچ میں مہنگے ثابت ہونے پر فوراً ڈراپ کر دیے گئے، حالانکہ بعد میں سری لنکا کے خلاف واپسی پر انہوں نے تین وکٹیں لے کر خود کو درست ثابت کیا۔
سلمان آغا کی اپنی کارکردگی بھی سوالات کی زد میں رہی۔ چھ اننگز میں صرف 60 رنز، ان میں سے بھی 38 کمزور حریف کے خلاف تھے۔ وہ ٹورنامنٹ میں سب سے کم گیندیں کھیلنے والے کپتانوں میں شامل رہے۔ اگر دلیل یہ تھی کہ ان کی حکمت عملی ٹیم کو سہارا دے گی، تو میدان میں اس کا تسلسل نظر نہیں آیا۔
انڈیا کے خلاف عثمان طارق کو اس وقت لایا گیا جب ایشان کشور اپنا جارحانہ کھیل دکھا چکے تھے۔ انگلینڈ کے خلاف ایک اہم موقع پر انہیں ہٹا کر درمیانی اوورز میں دباؤ کم ہونے دیا گیا۔ ایسے فیصلے بار بار پاکستان کے خلاف گئے۔ ایسا لگا جیسے ٹیم کسی واضح حکمت عملی کے بغیر کھیل رہی ہو اور ہر میچ میں نئی سمت تلاش کر رہی ہو۔

استحکام کے دعوے مگر نتائج اوسط

انتظامی سطح پر کہا جاتا ہے کہ اب بورڈ میں استحکام ہے۔ مگر اس استحکام نے میدان میں وہ غیر متوقع پن بھی ختم کر دیا جو کبھی پاکستان کی شناخت تھا۔
ٹی20 ورلڈ کپ 2021 میں پاکستان نے انڈیا کو دس وکٹوں سے شکست دے کر سب کو حیران کر دیا تھا اور سیمی فائنل تک مضبوط دعوے دار رہا۔

ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی حکمت عملی مسلسل ناکام ہوتی رہی (فوٹو: اے ایف پی)

اسی طرح سے ٹی20 ورلڈ کپ 2022 میں زمبابوے سے اپ سیٹ شکست کے باوجود پاکستان فائنل تک پہنچا مگر 2024 کے بعد سے پاکستان کے اس طرز عمل کی تصویر بدل گئی۔ گروپ سٹیج سے اخراج، ہوم گراؤنڈ پر کھیلی جانے والی چیمپئنز ٹرافی میں بغیر کسی جیت کے باہر ہونا، ٹیسٹ چیمپئن شپ میں آخری پوزیشن اور چار آئی سی سی ایونٹس میں چار مختلف کپتان تسلسل کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
کوچنگ سیٹ اپ بھی غیر یقینی کا شکار رہا۔ بڑے نام آئے، تعریفیں ہوئیں مگر چند ماہ بعد اختلافات کے باعث رخصت ہو گئے۔ سلیکشن کمیٹی کی تشکیل بار بار بدلی گئی اور آج تک واضح نہیں کہ حتمی فیصلے کس کے ہاتھ میں ہیں۔ ’ذمہ داری قبول کرنے‘ کے بیانات ضرور دیے جاتے ہیں مگر عملی طور پر اثر نظر نہیں آتا۔
اصل مسئلہ شاید یہی ہے کہ پاکستان کی ٹیم صلاحیت سے خالی نہیں مگر اس کے پاس واضح پالیسی اور طویل المدتی سمت نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ تین برسوں سے پاکستان ایک اوسط درجے کی ٹیم بن کر رہ گئی ہے اور اب اسے وہی نتائج مل رہے ہیں جو اوسط ٹیموں کو ملتے ہیں۔
شاید سب سے بڑی حیرت یہ نہیں کہ پاکستان باہر ہو گیا بلکہ یہ ہے کہ ہم اب بھی اسے حیرت سمجھ رہے ہیں۔

شیئر: