حزب اللہ کی جانب سے راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے
رپورٹس کے مطابق بیروت کے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی شدید آوازیں سنی گئی ہیں (فوٹو: روئٹرز)
اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کی جانب سے راکٹ داغے جانے کے بعد پیر کو لبنان میں اس کے ٹھکانوں پر کئی فضائی حملے کیے ہیں۔ جس کو اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ لڑائی میں تیزی سے اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق بیروت شہر کے مضافاتی علاقوں جو کہ حزب اللہ کا گڑھ ہیں، کو شدید دھماکوں نے ہلا کر رکھ دیا جبکہ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے بتایا تھا کہ لبنانی سرزمین سے متعدد میزائل روانہ ہونے کی اطلاع ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کا دفاعی نظام کم سے کم ایک میزائل کو گرانے میں کامیاب رہا جبکہ باقی کھلے علاقوں میں گرے، اس پیش رفت نے 2024 میں امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے برقرار خاموشی کو توڑ دیا ہے۔
لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے جانے کی مذمت کی ہے جن کے جواب میں اسرائیل نے فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔
نواف سلام نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’قطع نظر اس امر کے کہ اس کے پیچھے کون ہے مگر جنوبی لبنان کے علاقے سے راکٹ کا فائر کیا جانا ایک غیرذمہ دارانہ اور مشکوک عمل ہے جس نے لبنان کی سلامتی اور دفاع کو خطرے میں ڈالا اور اس سے اسرائیل کو حملے جاری رکھنے کا بہانہ ملا۔‘
دوسری جانب حزب اللہ نے راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے تہران کے ساتھ ’اظہار یکجہتی‘ قرار دیا ہے جس سے اس سے مؤقف میں تبدیلی کا اشارہ ملتا ہے۔
گروپ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے آیت اللہ امام سیدی علی الحسینی خامنہ ای کے قتل کے بدلے کے علاوہ عوام کے دفاع اور بار بار اسرائیلی حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں۔‘
بیان کے مطابق ’مزاحمتی قیادت سے ہمیشہ اس امر پر زور دیا ہے کہ اسرائیلی حملوں کا تسلسل، ہمارے رہنماؤں، نوجوانوں اور لوگوں کے قتل کے واقعات ہمیں اپنے دفاع اور مناسب وقت پر جواب دینے کا حق دیتے ہیں۔‘
اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے حملوں میں کسی کے زخمی ہونے یا دوسرے اہم نقصان کی تصدیق نہیں کی تاہم اس بات پر زور دیا ہے کہ جوابی حملوں کا مقصد ایران کی حمایت رکھنے والے گروپ کی جانب سے مزید خطرات کو بے اثر کرنا ہے جو کہ 2024 میں ہونے والی لڑائی کے بعد سے کافی کمزور حالت میں ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’آئی ڈی ایف حزب اللہ کے مہم میں شامل ہونے کے فیصلے کے خلاف کارروائی کرے گی اور اس گروپ کو اسرائیلی ریاست کے لیے خطرہ بننے کے قابل نہیں چھوڑے گی۔‘