اسرائیل ایران جنگ: عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز کو کیوں کھلا رکھنا چاہتی ہیں؟
اسرائیل ایران جنگ: عالمی طاقتیں آبنائے ہرمز کو کیوں کھلا رکھنا چاہتی ہیں؟
پیر 2 مارچ 2026 10:45
سنیچر کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے لڑائی جاری ہے (فوٹو: اے ایف پی)
جیسے جیسے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ میں شدت آ رہی ہے تو دنیا کی توجہ ایک بار پھر آبنائے ہرمز نامی اس گزرگاہ کی جانب سے مبذول ہوتی جا رہی ہے جو عالمی سطح پر تیل کی تجارت کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق عمان اور ایران کو ایک دوسرے سے الگ کرنے والا پانی کا یہ تنگ علاقہ 33 کلومیٹر چوڑا ہے اور سے عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ روزانہ کی بنیاد پر گزرتا ہے۔
پچھلے برس جب اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے اور 12 روز کی لڑائی کے دوران محض اس بنیاد پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اتوار کے روز کچھ خدشات نے اس وقت سر اٹھایا جب عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے اطلاع دی کہ پالاؤ کے جہاز سکائی لائٹ سے مساندم کی بندرگاہ سے پانچ ناٹیکل میل کے فاصلے پر کوئی چیز ٹکرائی۔
فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس کو کس چیز نے ٹکر ماری تاہم اس سے اس کے عملے کے چار افراد زخمی ہوئے تھے۔
عمان کے حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر عملے کے 20 ارکان سوار تھے جن میں 15 انڈین اور پانچ ایرانی ہیں، اور ان کو بحطاظت نکال لیا گیا ہے۔
سنیچر کو ایران پر امریکہ و اسرائیل کی جانب سے مشترکہ حملوں کے آغاز کے بعد ایران کے میزائلوں اور ڈرونز نے تجارتی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا جن میں دبئی میں جبل علی اور عمان کی بندرگاہ دوقم اور بحرین میں امریکہ بحریہ کے اڈے شامل ہیں۔
سنیچر کو عالمی سطح پر سمندر میں جہاز رانی کے حوالے سے سروسز فراہم کرنے والے ادارے لائڈز لسٹ کی جانب سے اطلاع دی گئی کہ ایرانی فورسز اس ایریا میں آنے والے جہازوں کو خبردار کر رہی ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داری پر آبنائے ہرمز سے گزریں۔
لائڈز جس نے ان پیغامات کا جائزہ بھی لیا ہے، کا کہنا ہے کہ ٹینکرز اور سکیورٹی حکام اس کو سنجیدہ خطرہ سمجھتے ہیں اور بڑے تجارتی ادارے آبنائے ہرمز کے راستے ترسیل کا سلسلہ روکنے جا رہے ہیں۔
سنیچرر کو برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ سینٹر نے ایک ایڈوائرزی نوٹس جاری کیا جس میں ’ممکنہ مداخلت اور نظام میں خلل‘ کے حوالے سے خبردار کیا گیا تھا۔
اس کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ میری ٹائم انڈسٹری کو آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے کوئی باضابطہ طور پر اطلاع نہیں دی گئی جبکہ اس کی بندش کے حوالے سے دعوے اوپن سورسز اور وی ایچ ایف کمیونیکیشنز کے ذریعے گردش کر رہے ہیں۔
اس کی جانب سے خلیج عرب، خلیج عمان، شمالی بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کے قریب سفر کرنے والے جہازوں کو مشور دیا گیا ہے کہ وہ یونیورسل میری ٹائم ریڈیو کمیونیکیشن چینل 16 کے ذریعے خود کو باخبر رکھیں اور ’تسلیم شدہ تجارتی راہداریوں پر سختی سے عمل کریں، فوجی یونٹوں کی جانب سے ممکنہ اقدام اور پیشہ ورانہ طور پر جواب کے لیے تیار رہیں جبکہ کسی بھی غیرقانونی سرگرمی یا مداخلت کی اطلاع یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کو دیں۔
صنعت سے تعلق رکھنے والے مختلف سورسز کا کہنا ہے کہ جہازوں کے کئی روز تک رکے رہنے کا امکان ہے۔ سیٹیلائٹ کے ذریعے لی گئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ بحری جہاز متحدہ عرب امارات میں فجیرہ سمیت دوسری بندرگاہوں پر بھی رک گئے ہیں اور یہ وہ جہاز ہیں جنہوں نے آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنا تھا۔
تاہم صورت حال کافی مخدوش دکھائی دے رہی ہے سنیچر کو لائڈز لسٹ کے خودکار شناختی نظام کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بہت سے ٹینکرز اور کنٹنرشپس خلیج اور خیلج عمان میں یو ٹرن لے رہے تھے جبکہ کچھ آبنائے ہرمز سے گزر رہے تھے۔
سنیچر کو خلیج میں مختلف اقسام کے تقریباً ساڑھے سات سو جہاز رکے ہوئے دکھائی دیے۔
عالمی سطح پر ہونے والی تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز کے راستے گزرتا ہے (فائل فوٹو: روئٹرز)
انشورنس کمپنیوں کو انٹیلی جنس سروسز فراہم کرنے والے ادارے سکائی ٹیک کی جانب سے ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’100 سے زائد کنٹینر شپس، ساڑھے چار سو آئل اینڈ گیس ٹینکرز اور 200 کیریئرز اس وقت آبنائے ہرمز کے اندر ہیں اور ممکنہ طور پر پھنسنے کے خطرات سے دوچار ہیں۔
سکائی ٹیک کی لائیو مانیٹرنگ میں دکھایا گیا ہے کہ گلف نے یکطرفہ بہاؤ ہے اور کوئی بھی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک مہینے کے دوران کیریئر ٹریفک میں اضافہ ہوا تاہم اگر آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو اس میں خلل پڑنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
لائڈز کا کہنا ہے کہ تقریباً 170 کنٹینرشپس جو کہ عالمی کیپیسٹی کا ایک اعشاریہ چار فیصد رکھتے ہیں، آبنائے ہرمز کے اندر ہیں اور ان کو باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اسی طرح یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ تیل اور گیس کی عالمی سطح پر ہونے والی تجارت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
لائڈز کا کہنا ہے سنیچر کو باب المندب کے قریب ایک ٹینکر کو یو ٹرن لیتے ہوئے دیکھا گیا جو بحیرہ احمر میں یمن اور جبوتی کے درمیان داخلے کا تنگ راستہ ہے کیونکہ وہاں حوثیوں کی جانب سے حملے کے خدشات بھی موجود ہیں۔
اکتوبر 2023 سے لے کر پچھلے نومبر تک اسرائیل کے غزہ پر حملے کے جواب میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے 170 سے زائد بحری جہازوں پر حملے کیے، جن میں چار ڈوب گئے اور درجنوں کی تعداد میں عملے کے ارکان ہلاک ہوئے۔