Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’حکومت ہندوؤں کی ہلاکت کا معاملہ عالمی عدالت میں اٹھائے‘

انڈیا میں 11 پاکستانی ہندو شہریوں کی ہلاکت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیا گیا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)
پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ اور ممبر قومی اسمبلی رمیش کمار نے کہا کہ حکومت پاکستان، عدلیہ اور بار کے صدور سے درخواست ہے کہ وہ انڈیا میں 11 پاکستانی ہندو شہریوں کی ’ہلاکت‘ کا معاملہ عالمی عدالت میں لے جانے میں مدد کریں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ انڈیا میں 11 پاکستانی ہندو شہریوں کی ’ہلاکت‘ کے معاملے کو عالمی عدالت میں اٹھانا چاہتے ہیں۔
اسلام آباد میں جاری دھرنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ سڑکیں ان کی وجہ سے بند ہوں۔
’ہم نہیں چاہیں گے کہ ہماری وجہ سے کسی کو تکلیف ہو، ہم حکومت سے درخواست کریں گے کہ 11 افراد کے قتل کے حوالے سے حکومت خود عالمی عدالت میں یہ معاملہ اٹھائے، ہم انصاف اپنی حکومت کے ذریعے لینا چاہتے ہیں۔‘
اسلام آباد میں جمعرات سے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان پر انتظامیہ کا بہت زیادہ پریشر تھا کیونکہ 10 سے 12 ہزار لوگ اسلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ دھرنے کے منتظمین نے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا اور لوگوں کو سمجھایا کہ ہمارا بنیادی مقصد احتجاج ریکارڈ کروانا تھا۔

پاکستانی ہندو شہریوں نے انڈین ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کیا۔ (فوٹو: ٹوئٹر)

انہوں نے بتایا کہ دھرنے کے شرکا ڈپلومیٹک انکلیو کے اندر گئے اور انڈین ہائی کمیشن میں قرارداد جمع کرائی۔ قرارداد کی ایک کاپی ہائی کمیشن کی دیوار پر بھی لگائی گئی۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو اس معاملے تک رسائی دی جائے، شفاف تحقیقات میں ہمیں بھی شامل کیا جائے اور ہمیں پاکستانی شہریوں کے بارے میں معلومات دی جائیں۔
مرنے والے پاکستانی ہندو شہریوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کی گیا۔

ملک کے مختلف علاقوں سے ہندو شہریوں نے اس احتجاج میں شرکت کی۔ (فوٹو: اردو نیوز)

یاد رہے کہ رواں سال 9 اگست کو انڈیا کی ریاست راجستھان کے ضلع جودھپور میں ایک کھیت سے ایک ہی خاندان کے 11 ایسے افراد کی لاشیں ملی تھیں جو 2015 میں پاکستان سے ہجرت کر کے انڈیا منتقل ہوئے تھے۔
9 اگست کے بعد بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹوں میں کہا تھا کہ پاکستان سے نقل مکانی کر کے آنے والے اس خاندان کے افراد نے خودکشیاں کی ہیں۔ مظاہرین کی جانب سے انڈیا کے حکومتی اداروں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے ان 11 ہندوؤں کو جودھ پور میں مبینہ طور پر زہر دے کر ہلاک کیا کیونکہ وہ پاکستان کے خلاف جاسوسی پر آمادہ نہیں ہوئے تھے۔

شیئر: