Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’میں دوبارہ زندہ ہوئی ہوں، 20 برس تشدد سہا‘

خاتون کے پہلے الفاظ تھے کہ ’میں دوبارہ زندہ ہوئی ہوں، خدا مجھے مرنے نہیں دینا چاہتا‘ (فوٹو:سکرین گریب)
کولمبیا کی ایک خاتون مبینہ طور پر دو سال پہلے لاپتہ ہو گئی تھیں اور انہیں بیچ سمندر پانی کی سطح پر زندہ لیکن بے ہوش حالت میں تیرتے دیکھ کر مچھیرے حیران رہ گئے۔
برطانوی اخبار دی سن کے مطابق 46 برس کی اس خاتون کا نام اینجلیکا گیتن ہے اور وہ مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر 2018 میں اپنے بچوں کے بغیر اکیلی گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں مچھیروں اور خاتون کو دیکھا جا سکتا ہے۔
مچھیرے رولانڈو اور ان کے ساتھی کو سنیچر کی صبح سویرے ساحل سمندر سے چند میل آگے شکار کے لیے جاتے ہوئے پہلے پہل لگا کہ پانی کے اوپر کوئی عجیب و غریب چیز تیر رہی ہے، پھر لگا کہ لکڑی ہے لیکن قریب گئے تو انہوں نے ایک خاتون کو نیم بے ہوشی کی حالت میں پانی پر ہچکولے لیتے دیکھا۔
خاتون نے ادھ کھلی آنکھوں سے مچھیروں کو دیکھا اور مدد کے لیے ہاتھ بلند کیا۔ خاتون کی حالت بہت خراب تھی اور آٹھ گھنٹے تک پانی میں رہنے کی وجہ انہیں ہائپو تھرمیا نامی بیماری لاحق ہو چکی تھی۔
مچھیروں نے خاتون کو پانی سے نکالا تو ان کے پہلے الفاظ تھے کہ ’میں دوبارہ زندہ ہوئی ہوں، خدا مجھے مرنے نہیں دینا چاہتا۔‘
فیس بک پر وائرل دیگر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا کہ لوگ انہیں ہسپتال لے جانے سے پہلے پانی دے رہے اور پیدل چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

کہانی شروع کہاں سے ہوئی؟
اینجلیکا گیتن نے صحت یاب ہونے کے بعد آر این سی ریڈیو کو بتایا کہ انہوں نے کئی برس تک اپنے سابق شوہر کے ہاتھوں تشدد سہنے کے بعد 2018 میں گھر سے بھاگ جانے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میری 20 برس کی شادی شدہ زندگی تشدد سہتے ہوئے گزری۔ اس کا آغاز پہلی بیٹی کی پیدائش سے ہوا۔ وہ مجھے مارتا تھا۔ گالیاں دیتا تھا۔ دوسری بچی کے پیدائش تک بھی یہ سب چلتا رہا۔ میں اسی وقت بھاگ جانا چاہتی تھی لیکن میری بچیاں بہت چھوٹی تھیں۔‘
’پولیس کے پاس جانا بھی کسی کام نہ آیا کیونکہ وہ اسے ایک دن کے لیے حوالات میں بند کرتے اور پھر چھوڑ دیتے۔ وہ پھر گھر آ کر مجھے مارتا پیٹتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ستمبر 2018 میں ان کے خاوند نے ان کے چہرے پر گہری چوٹ لگائی اور قتل کرنے کی کوشش کی اور چھ ماہ تک گلیوں میں بھٹکنے کے بعد ایک پناہ گاہ میں جگہ ملی۔‘
تاہم پولیس نے انہیں وہاں سے بھی نکال دیا۔
’میں زندہ نہیں رہنا چاہتی تھی۔ میں سب کچھ ختم کر دینا چاہتی تھی۔ میری فیملی سمیت کوئی بھی میری مدد نہیں کر رہا تھا۔‘
’میں نے سمندر میں چھلانگ لگا دی اور اس کے بعد کچھ پتا نہیں کہ کیا ہوا۔‘
’جس شخص نے مجھے بچایا اس نے بتایا کہ میں بے ہوش تھی۔‘
ان کی بیٹی نے میڈیا کو بتایا کہ اب وہ اور ان کی بہن اپنی ماں کا بہت خیال رکھیں گی۔

شیئر: