Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

نواز شریف کے علاوہ دیگر رہنماؤں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ

حذف ہونے والی دفعات کی تفصیل میں پاکستان کے خلاف پروپیگینڈا یا سازش کرنا شامل تھا ( فوٹو: روئٹرز)
پنجاب پولیس نے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور دیگر کے خلاف درج مقمدے میں ان کے علاوہ پارٹی کی دیگر قیادت کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ درج کی گئی ایف آئی آر میں سے چار اہم دفعات کو بھی حذف کردیا گیا ہے۔
انویسٹی گیشن پولیس کے ترجمان شیخ عمران کا کہنا ہے کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب کے حکم سے قائم شدہ سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے بدر رشید نامی شہری کی جانب سے تھانہ شاہدرہ میں مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف درج مقدمہ نمبر 3033/ 20 کی تفتیش شروع کر دی ہے۔
سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے اپنے ٹی او آرز کے مطابق تفتیش کرتے ہوئے سب سے پہلے مقدمے میں مدعی مقدمہ کا بیان قلم بند کیا۔
حذف ہونے والی دفعات کی تفصیل میں پاکستان کے خلاف پروپیگینڈا یا سازش کرنا، ملکی سالمیت کے فیصلوں کی مذمت یا انکار کرنا، برسراقتدار حکومتی قیادت پر دباؤ ڈالنا اور دو گروپوں کے درمیان تصادم کروانے کی کوشش شامل ہیں۔
ترجمان انویسٹی گیشن پولیس لاہور کا مزید کہنا ہے کہ سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم ایف آئی آر، مدعی مقدمہ کا بیان اور دونوں ویڈیو بیانات کو دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی کہ مقدمے میں مبینہ ملزمان کے خلاف جن دو تقاریر کی تائید کرنے پر پرچے میں نامزد کیا گیا تھا ان میں راجا ظفر الحق، سردار ایاز صادق، شاہد خاقان عباسی اور خرم دستگیرشامل ہیں۔
اس کے علاوہ سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل ریٹارڈ عبدالقیوم، سلیم ضیا، اقبال ظفر جھگڑا، لیفٹیننٹ جنرل ریٹارڈ صلاح الدین ترمذی، مریم نواز، احسن اقبال، شیخ آفتاب احمد اور پرویز رشید کا نام شامل تھے۔
خواجہ آصف، رانا ثنا اللہ، بیگم نجمہ حمید، بیگم ذکیہ شاہ نواز، طارق رزاق چوہدری، سردار یعقوب نثار، نواب زادہ چنگیز مری، مفتاح اسماعیل، طارق فزاق چوہدری، محمد زبیر، لیفٹیننٹ جنرل ریٹارڈ عبدالقادر بلوچ، شزا فاطمہ خواجہ، مرتضیٰ جاوید عباسی اور مہتاب عباسی کا نام بھی موجود تھا۔
میاں جاوید لطیف، مریم اورنگزیب، عطااللہ تارڑ، چوہدری برجیس طاہر، چوہدری محمد جعفر اقبال، عظمیٰ بخاری، شائستہ پرویز ملک، سائرہ افضل تارڑ، بیگم عشرت اشرف، وحید عالم، راحیلہ درانی، دانیال عزیز، راجا فاروق حیدر، خواجہ سعدرفیق، امیر مقام اور عرفان صدیقی بھی نامزد کیے گئے تھے۔

حکام کے مطابق مقدمے کی تفتیش قانون، شواہد اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق مکمل کی جائے گی (فوٹو: اے ایف پی)

ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف تائید کے مکمل شواہد نہ ہونے کے باعث ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
‘باقی مقدمے کی تفتیش قانون، شواہد اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق مکمل کی جائے گی۔ مقدمے میں ابھی بھی آٹھ مزید دفعات تاحال موجود ہیں جن میں سازش کرنے ملک کے خلاف انتشار کا ماحول پیدا کرنے، اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے اپنے قریبی افراد اور عوام کو بلوے پر اکسانے کی دفعات شامل ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اور مسلم لیگ ن کے 40 کے لگ بھگ رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ سازش کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں یہ مقدمہ ایک شہری بدر رشید کی درخواست پر درج کیا گیا تھا جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مجرمانہ سازش کی دفعات شامل کی گئی تھیں۔
مسلم لیگ ن اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے نوازشریف اور دیگر رہنماؤں کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کی شدید مذمت کی تھی اور اس پر سخت احتجاج کیا تھا۔

شیئر: