Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان فروری تک گرے لسٹ میں رہے گا

پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس کے بعد اس فیصلے کا اعلان کیا گیا (فوٹو: ٹوئٹر)
منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی مدد کے خلاف کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف ) نے پاکستان کو فروری 2021 تک اپنی گرے لسٹ میں برقرار رکھا ہے۔
جمعہ کو پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس کے بعد اس فیصلے کا اعلان کیا گیا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس اکتوبر 21 سے اکتوبر 23 تک جاری رہا اور کورونا وبا کے باعث اس بار اس کا ورچوئل یعنی انٹرنیٹ پر انعقاد کیا گیا۔
 
اجلاس نے ایف اے ٹی ایف کی طرف سے دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے دیے گئے 27 نکاتی ایکشن پلان پر پاکستان کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلائر نے بتایا کہ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات پر عمل درآمد کیا ہے۔ پاکستان اس وقت تک گرے لسٹ میں رہے گا جب تک کہ ایکشن پلان کے چھ مزید 6 پوائنٹس پر مکمل عمل درآمد نہیں کر لیتا۔
ایف اے ٹی ایف کی ایک ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔ اگر مزید 6 نکات پر عمل ہوجاتا ہے تو پھر اگلے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے جون 2018 میں دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے کی وجہ گرے لسٹ میں شامل کرتے ہوئے پاکستان کے لیے لائحہ عمل تجویز کیا تھا، جس پر عمل کر کے وہ تنطیم کی گرے لسٹ سے باہر آ سکتا ہے۔
پاکستان نے رواں برس پارلیمنٹ سے 15 کے قریب نئے قوانین منظور کرائے ہیں تاکہ ملک کی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی راہ ہموار ہو سکے۔گذشتہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان نے 14 ایکشن پوائنٹس پر عمل کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کا ممبر نہیں تاہم اس کے کئی حلیف ممالک جیسا کہ سعودی عرب، ملائشیا، چین اور ترکی اس تنظیم کے ممبر ہیں، یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ان ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطے کیے تھے۔
گزشتہ ماہ ایف اے ٹی ایف کے ذیلی ادارے ایشیا پیسفک گروپ ( اے پی جی) نے اپنی فالو اپ رپورٹ میں پاکستان کی 40 میں سے دو سفارشات پر عمل درآمد کا ناکافی قرار دیتے ہوئے ملک کو زیادہ اور تیز فالو اپ کی کیٹگری میں رکھا گیا ہے جس کے تحت کسی ملک کو تین ماہ بعد کارکردگی کا جائزہ پیش کرنا ہوتا ہے۔
نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گذشتہ ایک سال میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی ہے اور نو سفارشات پر خاطر خواہ عمل درآمد کیا گیا ہے جبکہ 25 سفارشات پر جزوی عمل درآمد ہوا ہے اور چار پر بالکل بھی عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

شیئر: