Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب فیشن ویک میں ڈیزائنرز کی نئی اور منفرد کلیکشن پیش

عرب فیشن ویک 2015 سے ہر سال منعقد ہوتا ہے۔ فوٹو فیس بک
عرب فیشن ویک رواں سال بھی منعقد ہوا لیکن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر فیشن ماڈلز نے مختلف برانڈز کے ملبوسات ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیے۔
چار روزہ فیشن تقریب دبئی میں منعقد ہوئی جہاں 22 عرب ممالک کے ڈیزائنرز نے اپنے  ملبوسات پیش کیے۔
فیشن ویک کے دوران خوبصورت ملبوسات پیش کیے گئے جن کے ڈیزائنز کے ذریعے عرب ممالک کی ثقافت کی عکاسی کی گئی۔ نرم ریشم سے بنے ہوئے  ملبوسات پر زمرد اور مشہور جیولری کمپنی سواروسکی کے کرسٹل جڑے ہوئے تھے۔
فیشن ویک میں امریکی نژاد مصری فیشن ڈیزائنر ابیر ال اوتیبا کے ملبوسات میں دکھائے گئے۔ ڈیزائنر کا کہنا تھا کہ ان کی نئی کلیکشن ان خواتین سے متاثر ہو کر ڈیزائن کی گئی ہے جنہوں نے سال 2020 کے چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے بے یقینی کے باوجود کامیابی حاصل کی۔
مصر سے تعلق رکھنے والی ڈیزائنر ابیر ال اوتیبا کے ملبوسات میں مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور ثقافت کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان میں اہرام مصر، مصری دیویوں، بحیرہ روم اور مشہور عرب آرکیٹیکٹ زاہا حدید کے ڈیزائنز کی جھلک نظر آتی ہے۔
عراقی ڈیزائنر زینہ زکی نے بھی اپنی نئی کلیکشن عرب فیشن ویک میں پیش کی۔ زینہ زکی کے ڈیزائنز خواتین کی اندرونی خوبصورتی سے متاثر ہو کر تیار کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مختلف افرد کی پسند کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی نئی کلیکشن میں 16 منفرد ڈیزائن پیش کیے ہیں۔
 
 
 
 

 
 
 
 
 
 
 
 
 

Passion speaks

A post shared by Zeena Zaki (@zeenazaki) on

زینہ زکی نے عرب نیوز کو بتایا کہ کورونا کی عالمی وبا اور لاک ڈاؤن کے باعث ملبوسات تیار کرنے کے لیے اشیا منگوانا مشکل تھا۔
زینہ زکی نے اپنے ملبوسات کے لیے ایسے ڈیزائن اور رنگوں کا انتخاب کیا ہے جو ہر خاتون کے حسن کو نمایاں کریں گے۔
 چار روزہ عرب فیشن ویک میں دیگر عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے ڈیزائنرز نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے ملبوسات پیش کیے۔

شیئر: