لوگ نئے سال پر ’ورزش کرنے کا عہد‘ جلدی کیوں بھول جاتے ہیں؟
ماہر نفسیات ڈیانا ہل کا کہنا ہے کہ ’موٹیویشن ایک مستقل چیز سے زیادہ ایک وقتی لہر ہے۔‘ فائل فوٹو: پکسابے
ہر سال لاکھوں افراد نئے برس آغاز پر اپنے ساتھ کچھ عہد یا وعدے کرتے ہیں کہ وہ ان کو نبھانے کی کوشش کریں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق سال کا آدھ ماہ گزرنے کے بعد بہت کم لوگ خود کو ان وعدوں پر پابند رکھنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔
سنہ 2024 کے پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق 28 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اپنے ساتھ کیے وعدوں میں سے متعدد کو جنوری کے آخر تک برقرار نہیں رکھ پاتے جبکہ 13 فیصد تمام ’ریزولوشنز‘ کو پسِ پُشت ڈال دیتے ہیں۔
نئے سال کے لیے خود کے ساتھ کیے ان وعدوں میں سب سے زیادہ لوگوں نے صحت برقرار رکھنے کے لیے ورزش پر زور دیا ہوتا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے نارک سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک سروے کے مطابق صحت سے متعلق سالانہ ریزولوشنز میں زیادہ ورزش کرنے کو معمول بنانے کی خواہش دیگر تمام پر حاوی ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہر شخص جانتا ہے کہ صحت ہی سب کچھ ہے مگر اس کے باوجود زیادہ تر لوگ ورزش کے حوالے سے اپنے عزم کو برقرار نہیں رکھ پاتے۔
حال ہی میں ایک پوڈ کاسٹ میں سی این این کے چیف میڈیکل نمائندے ڈاکٹر سنجے گپتا نے ماہر نفسیات ڈیانا ہل سے پوچھا کہ ’لوگ اپنے جسم کو حرکت کیوں نہیں دیتے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ ورزش ان کے لیے اچھی ہے؟‘
انہوں نے جواب میں بتایا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ ہمارے لیے جسمانی طور پر اچھا ہے۔ اموات کی شرح کم ہو رہی ہے، کینسر کی شرح کم ہو رہی ہے۔ لیکن ہم میں سے صرف ایک چوتھائی حقیقت میں ایسا کر رہے ہیں۔‘
ڈیانا ہل کے مطابق ’جب ورزش شروع کرنے کی بات آتی ہے تو بہت سے لوگ نہ کرنے کی کافی وجوہات کے ساتھ سامنے آنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ان میں ایک سب سے عام سی وجہ کہ ’میرے پاس کافی وقت نہیں ہے‘ یا پھر یہ کہ ’میں تو ویسے ہی سارا دن چلتا پھرتا رہتا ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے اپنے جسم کو حرکت دینے میں بہت سی اندرونی رکاوٹیں ہیں، نفسیاتی رکاوٹیں ہیں۔‘
ڈیانا ہل کا کہنا تھا کہ ’موٹیویشن ایک مستقل چیز سے زیادہ ایک وقتی لہر ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جس طرح جو لوگ ہمارا یہ پوڈ کاسٹ اس وقت سُن رہے ہیں وہ ورزش کی کلاس کے لیے سائن اَپ کر دیں گے لیکن جب کلاس شروع ہو جائے گی، تو بہت سے لوگوں کی موٹیویشن آغاز پر ہی ختم ہو چکی ہو گی۔‘
ماہرین نفسیات کے مطابق انسان اپنی عادات کو مشکل سے بدلتا ہے اور عموما ورزشن کرنے کے مناسب موسمی صورتحال کا اتنظار کرتا ہے مگر ایسا کبھی نہیں ہو پاتا۔
