Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ماڈل کو اچھی شکل نہیں سر توڑ محنت نمبر ون بناتی ہے: آمنہ بابر

آمنہ بابر کا کہنا ہے کہ انہوں نے کیریئر بنانے کے لیے بہت محنت کی (فوٹو: انسٹا گرام)
ماڈلنگ کی دنیا کا نامور نام آمنہ بابر کہتی ہیں کہ ایک وقت تھا جب انہوں نے اداکاری کرنے کا سوچا تھا لیکن اب ان کا ایسا ارادہ نہیں ہے۔
اردو نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں آمنہ بابر کا کہنا تھا کہ اداکاری کے لیے بہت سارا وقت درکار ہوتا ہے اور ان کے پاس اب اتنا وقت نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’جب میں نے اداکاری کرنے کا ارادہ کیا تھا تو اس وقت مجھے لگتا تھا کہ میرے چہرے کے خدوخال منفی کرداروں کے لیے موزوں ہیں۔‘
آمنہ کہتی ہی کہ انہوں نے تمام نامور ڈیزائنرز کے ساتھ کام کیا اور خود کو کسی ایک ڈیزائنر کی حد تک محدود نہیں کیا۔
’سب ڈیزائنرز کے ملبوسات اچھے لگتے ہیں سب ہی اچھا کام کرتے ہیں کسی ایک کا نام لے کر میں باقیوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا چاہتی۔‘
’میری کامیابی میں میری قسمت اور میری محنت کا ہاتھ‘
آمنہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے کیریئر بنانے کے لیے بہت محنت کی، آڈیشنز دیے ریجکٹ بھی ہوئیں لیکن ہمت نہیں ہاری۔
آمنہ کہتی ہیں کہ ’بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے مجھے آڈیشن میں ریجیکٹ کیا لیکن بعد میں وہی لوگ میرے ساتھ کام کرنے کے لیے میرے پیچھے بھی آئے، میں نے بغیر ان کو کچھ جتائے ان کے ساتھ کام کیا۔‘

ماڈل آمنہ بابر کا کہنا ہے کہ ان کے چہرے کے خدوخال منفی کرداروں کے لیے موزوں ہیں (فوٹو: انسٹا گرام)

انہوں نے کہا کہ ’میرے حساب سے سولو شوٹس فیشن شوز سے زیادہ بہتر رہتے ہیں کیونکہ ان میں وقت کم لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ مجھ جیسی ماڈلز کی اب کوشش ہوتی ہے کہ وہ ریمپ کی بجائے سٹل شوٹس کریں۔‘
آمنہ بابر ساتھ میں یہ بھی کہتی ہیں کہ ریمپ واک ہو یا سٹل شوٹ دونوں کو کرنے کی خوشی اور جوش اپنی جگہ ہے۔
’میں آج بھی سٹل شوٹ کروں تو میری خوشی اور جوش کا لیول ایسا ہوتا ہے کہ جیسے پہلی بار سٹل شوٹ کر رہی ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں سے فیشن ویکس مسلسل اور بہت زیادہ ہو رہے ہیں اور ہر ایک کو کام کرنے کا موقع میسر آ رہا ہے۔
’نئے چہرے ریمپ پر نظر تو آ رہے ہیں لیکن ان کو شناخت بنانے میں وقت لگتا ہے جیسے مجھے اپنا نام بنانے میں چار سال کا عرصہ لگا اس کے بعد کہیں لوگوں نے پہچاننا شروع کیا۔‘

آمنہ بابر کے مطابق کہ ان کو آڈیشن کے لیے کئی بار ریجیکٹ کیا گیا (فوٹو: انسٹا گرام)

آمنہ بابر نے مزید بتایا کہ اگر آپ میں اہلیت ہو تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ ’مجھے اتنی بار ریجیکٹ کیا گیا لیکن مجھے خود پر اعتماد تھا اس لیے ہمت نہیں ہاری۔ اچھی اور غیر معمولی شکل و صورت بہت پیچھے رہ جاتی ہے اگر آپ  کو خود پر، اپنے کام اور اپنی شخصیت پر اعتماد ہو تو۔‘
پاکستان کی فیشن انڈسٹری صحیح سمت میں جا رہی ہے
آمنہ بابر کا کہنا ہے کہ ماڈلز آسمان سے نہیں اتری ہوتیں وہ بھی عام انسان ہوتی ہیں یہ فاقے نہیں کرتیں نہ ہی ہر وقت ورک آؤٹ کرتی رہتی ہیں۔
آمنہ کہتی ہیں کہ کسی بھی ماڈل کو اس کی اچھی شکل و صورت نمبر ون نہیں بناتی بلکہ اس کی سر توڑ محنت اور لگن اس کو نمبر ون بناتی ہے۔
جب میں اس فیلڈ میں آئی تھی لوگ ماڈلز کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگ اب ماڈلز اور ماڈلنگ کے شعبے کو اچھا سمجھنا شروع ہو گئے ہیں اچھے اور پڑھے لکھے گھرانوں کے لوگ اب اپنے بچوں کو اس فیلڈ میں بھیج رہے ہیں۔‘

آمنہ بابر کو سولو شوٹس فیشن شوز سے زیادہ بہترلگتے ہیں (فوٹو: انسٹا گرام)

آمنہ بابر نے خاور ریاض کے ساتھ کام کا آغاز کیا کہتی ہیں کہ انہوں نے ہی انہیں پی ایف ڈی سی میں پہلی بار بھیجا تھا جہاں سحر سہگل نے ان کے لیے کام کے دروازے کھولے اور سلسلہ چل نکلا۔
آمنہ معروف ماڈل سبل چوہدری سے خاصی متاثر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’سبل سنگل مدر ہیں انہوں نے اپنے پروفیشن اور بچوں کو جس طرح سے مینیج کیا وہ تعریف کے قابل ہے اور ان کی اسی صلاحیت نے انہیں ہمیشہ ہی متاثر کیا ہے، سبل نئی آنے والی ماڈل کے لیے  رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں۔‘

شیئر: