Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’حفاظت کرنے والے ہی خوف کی علامت ‘

تشدد پر مبنی معاشرتی رویوں کو تنقید کا سامنا رہتا ہے (فوٹو: پکسابے)
سوشل میڈیا پر غیرصحت مندانہ سماجی رویوں کے مناظر اور ان پر آنے والا ردعمل یوں تو کوئی نئی بات نہیں رہا البتہ اپنے شعبوں کے کامیاب ترین افراد جب ایسے کسی موقع کو تبصرے کا ذریعہ بناتے ہیں تو یہ بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچ کر ان پر اثرانداز ہوتا ہے۔
کچھ ایسا ہی معاملہ ایک حالیہ ٹویٹ کے ساتھ ہوا جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے ایک کمسن بچے کی باپ کی جانب سے مبینہ تشدد کی شکایت کرتی ویڈیو پر تبصرہ کیا ہے۔
وسیم اکرم نے جس ویڈیو کو ریٹویٹ کیا اس میں ایک کم عمر بچہ شکایت کرتا ہے کہ ’چٹائی فروخت نہ کرنے پر میرا والد مجھ پر تشدد کرتا ہے اور کرنٹ لگاتا ہے‘۔
اپنے تبصرے میں سابق فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ ’میرے نزدیگ اس زمین پر وہ لوگ رذیل تر ہیں جو بچوں پر تشدد کرتے ہیں۔ یہ ویڈیو دیکھی نہیں جا سکتی۔ جس فرد کو اس کم عمر بچے کی حفاظت کرنی تھی وہی اس کے لیے خوف کی علامت بن چکا ہے‘۔

وسیم اکرم کی ٹویٹ پر ردعمل دینے والے صارفین نے جہاں ’والد کے تشدد کا شکار کم عمر بچے‘ کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا، وہیں خاصے ایسے بھی تھے جو سابق کرکٹر سے اس طرح کی صورتحال کے تدارک کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔
 

سبط عارف نامی صارف نے وسیم اکرم اور ان کی اہلیہ شنیرا اکرم کو مخاطب کیا تو لکھا ’اس طرح کے مسائل کو سامنے لاتے رہیں تاکہ دیگر افراد کو کچھ مثبت کرنے کی ہمت ملے۔ آپ ایک جوڑے کے طور پر موجود سیاسی ٹاک شوز سے کہیں زیادہ موثر ہیں‘۔
 

سید کمال حسین شاہ نامی ٹویپ نے ویڈیو پر تبصرے کے جواب میں بتایا کہ ’ڈسٹرکٹ پولیس افسر ایبٹ آباد نے اس (بچے) کے والد کے خلاف پرچہ درج کر لیا تھا‘۔
 

ویڈیو کے مواد اور بچے پر تشدد پر تبصرے کرنے والے متعدد صارفین ایسے بھی تھے جو مختلف معاشرتی طبقات کی صورتحال سے متعلق یاددہانی کراتے رہے۔ محمد جہانگیر نے لکھا ’اس طرح کے مواقع خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کے متعلق یاددہانی کراتے ہیں‘۔
 

شارق جمال نامی صارف نے معاشرتی رویوں کو ایسی صورتحال کی وجہ قرار دیا تو فوری اصلاح سے متعلق یاددہانی بھی کرائی۔
 

آصف سمیت ایسے متعدد صارفین بھی وسیم اکرم کی ٹویٹ پر ہونے والی گفتگو کا حصہ بنے جو صورتحال کے ازالے کے لیے ریاست کے کردار سے شاکی دکھائی دیے۔
 

بچے پر مبینہ تشدد کی ویڈیو اور وسیم اکرم کی ٹویٹ پر تبصرے کرنے والے صارفین کی بڑی تعداد اس بات پر متفق دکھائی دی کہ بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے والدین اور معاشرے دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

شیئر: