Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

12 برس کی عمر میں ’کلرک‘ بننے والے کرکٹر مشتاق محمد

مشتاق محمد نے 13 برس اور 41 دن کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ (فوٹو: کرکٹ ورلڈ)
مشتاق محمد قومی ٹیم میں آئے تو اس وقت ان کے بھائی حنیف محمد ممتاز بلے باز تھے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف 337 رنز کی عظیم اننگز نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا۔ ایک دوسرے بھائی وزیر محمد بھی اس وقت ٹیسٹ کرکٹر تھے۔
1954 میں اوول ٹیسٹ میں پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی تو حنیف اور وزیر دونوں ٹیم کا حصہ تھے۔ مشتاق کے بعد صادق محمد نے قومی ٹیم کی نمائندگی کرنی تھی۔
پانچویں بھائی رئیس محمد فرسٹ کلاس کرکٹر رہے۔ بدقسمتی سے وہ ٹیسٹ کرکٹر نہ بن سکے۔
محمد برادران کی پاکستان کرکٹ کے لیے خدمات کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ قومی ٹیم کے پہلے 101 ٹیسٹ میچوں میں سے 100 میں چار بھائیوں میں سے ایک پاکستانی ٹیم کا حصہ ضرور رہا۔ یہ عرصہ 1952 سے لے کر 1978 تک محیط تھا۔
کرکٹ میں ان بھائیوں کے کمالات کے پیش نظر یہ بات کہی جاسکتی ہے:
ایں خانہ ہمہ آفتاب است
اس باکمال خانوادے کے ایک فرد مشتاق محمد کے بارے میں بات کرنے کے لیے ہم نے یہ تمہید باندھی ہے۔
مشتاق محمد کے جوہر سکول کے زمانے میں کھلنے لگے۔ پڑھائی میں ان کا جی نہ لگتا، سر میں ہر وقت کرکٹ کا سودا سمایا رہتا۔ کلب کرکٹ میں بھی صلاحیتوں کا اظہار ہورہا تھا۔
پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نےان کے ٹیلنٹ کے پیش نظر رولز میں نرمی کرتے ہوئے انہیں 12 برس کی عمر میں 'کلرک ' بناکر برسر روزگار کیا۔ 98 روپے تنخواہ مقرر ہوئی جو پہلی بار ملی تو اسے والدہ کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ انہوں نے اسے تین حصوں میں بانٹا۔ 50 روپے گھر کے خرچے کے لیے مختص ہوئے، 22 روپے سکول فیس کے لیے، 26 روپے مشتاق کے حصے میں آئے۔
اس عمر میں کماؤ پوت بننا انہیں بہت اچھا لگا۔
13 برس اور 41 دن کی عمر میں کراچی وائٹس کی طرف سے سندھ کے خلاف فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا۔ 87 رنز بنائے اور پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ یہ جنوری 1957 کی بات ہے۔ 1958 میں نوجوان پاکستانی کرکٹرز کی ٹیم، پاکستان ایگلٹس، کے ساتھ انگلینڈ کا دورہ کیا۔
1959 میں سکول کے یہ طالب علم 15 سال اور 124 دن کی عمر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کر کے کم عمر ترین ٹیسٹ کرکٹر بن گئے۔ حریف ٹیم میں گیری سوبرز، روہن کہنائی اور ویزلے ہال جیسے بڑے کرکٹر تھے۔ ہال کی بولنگ کی اس زمانے میں بڑی دہشت تھی۔
مشتاق پہلے ٹیسٹ میں متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے۔
1960 میں انڈیا کے دورے میں دہلی ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے کم عمر ترین بلے باز بنے۔ اس وقت وہ 17 برس اور 82 دن کے تھے۔
1962 میں ٹرینٹ برج ٹیسٹ میں سنچری بنائی۔ سیریز میں 44 کی اوسط سے سکور کیا۔ سائیڈ میچوں میں بھی عمدہ کارکردگی دکھائی۔ 1963 میں وزڈن کرکٹر آف دی ائیر قرار دیا گیا۔
1963 میں وہ نارتھمپٹن شائر سے وابستہ ہوئے اور پھر سالہا سال بلے باز اور لیگ سپن بولر کی حیثیت سے کاؤنٹی کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھائی۔
مشتاق محمد کی ٹیسٹ میں عمدہ ترین کارکردگی 1973 میں ڈنیڈن ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف سامنے آئی۔ مشتاق نے اس میچ میں 201 رنز بنائے اور اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ وہ ویسٹ انڈیز کے ڈینس اٹکینسن کے بعد ایک ٹیسٹ میں ڈبل سنچری اور اننگز میں پانچ وکٹیں لینے والے دوسرے ٹیسٹ کرکٹر بنے۔
1977 میں پورٹ آف سپین ٹیسٹ میں کپتان کی حیثیت سے مشتاق نے نہایت اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا۔ سنچری بنائی اور پانچ وکٹیں لیں۔ دوسری اننگز میں نصف سنچری اور تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔

1976 میں مشتاق کی کپتانی میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز جیتی۔ (آئی سی سی ٹوئٹر)

مشتاق کی کپتانی میں پاکستان نے آسٹریلیا کو اس کی سرزمین پر پہلی دفعہ ٹیسٹ میں ہرایا۔ مشتاق اسے اپنی کپتانی میں حاصل ہونے والی سب سے یادگار کامیابی کہتے ہیں (یہ سیریز بھی برابر ہوئی)۔ سڈنی ٹیسٹ عمران خان کے کیرئیر میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ انہوں نے اس میچ میں 12 وکٹیں حاصل کیں۔ بولر کی حیثیت سے ان کی عظمت کا سفر اسی میچ سے شروع ہوا۔
1976 میں مشتاق کی کپتانی میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز جیتی۔ اس سیریز میں مشتاق محمد نے دو سنچریاں بنائیں۔ حیدر آباد ٹیسٹ میں صادق محمد نے بھی سنچری بنائی۔ یہ ٹیسٹ کرکٹ میں دوسرا موقع تھا جب دو بھائیوں نے ایک ہی ٹیسٹ میں سنچری بنائی۔
مشتاق کی کپتانی میں پاکستان نے 1978 میں انڈیا کو ہوم سیریز میں ہرا کر تاریخ رقم کی۔ دونوں ملکوں کے درمیان پہلی دفعہ فیصلہ کن سیریز ہوئی۔ جس کی ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ دونوں ٹیمیں 18 سال بعد ایک دوسرے کے مقابل آئی تھیں۔
عبدالحفیظ  کاردار اور عمران خان کے کپتان بننے کے درمیان جن کھلاڑیوں نے قومی ٹیم کی قیادت کی ان میں مشتاق بہترین کپتان تھے لیکن ان کی کامیابیوں کا نہ جانے کیوں زیادہ چرچا نہیں ہوتا۔

2006 میں 'انسائیڈ آؤٹ' کے نام سے ان کی آپ بیتی شائع ہوئی۔ فائل فوٹو: گیٹی امیجز

کاردار کے بعد وہی تو تھے جن کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے پاکستان ٹیم جیت کی راہ پر گامزن ہوئی۔ اس کا مزاج بدلا۔
ان کے کپتان بننے سے  پہلے کے 12 برسوں میں تو پاکستان کے لیے ہوم سیریز جیتنا ہی ممکن نہ ہو سکا تھا۔
1979 کے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے مشتاق نے معذوری ظاہر کی اور کہا کہ وہ اب صرف ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں گے، ان کا یہ فیصلہ ان کے حق میں نہ گیا۔ 1979 میں پاکستان ٹیم انڈیا گئی تو انہیں کپتان بنانا تو درکنار ٹیم میں کھلاڑی کی حیثیت سے بھی شامل نہ کیا گیا اور ان کا انٹرنیشنل کیرئیر اختتام کو پہنچا۔
دلچسپ بات ہے کہ ظہیر عباس نے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ ون ڈے کرکٹ کھیلتے رہیں گے لیکن مشتاق کی طرح انہیں بھی منتخب کردہ فارمیٹ میں کھیلنے کا موقع نہ ملا۔

مشتاق محمد کے کپتان بننے سے  پہلے کے 12 برسوں میں تو پاکستان کے لیے ہوم سیریز جیتنا ہی ممکن نہ ہو سکا تھا۔ فوٹو: آئی سی سی فیس بک

جدید دور میں ریورس سویپ کا بہت چلن ہے لیکن کسی زمانے میں خال خال بیٹسمین ہی یہ شاٹ کھیلتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ کرکٹ میں یہ شارٹ مشتاق نے متعارف کرائی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 1964 میں انگلینڈ میں پہلی دفعہ یہ شاٹ کھیلی۔
2006 میں 'انسائیڈ آؤٹ' کے نام سے ان کی آپ بیتی شائع ہوئی۔
1999 میں پاکستان کی جس ٹیم نے وسیم اکرم کی کپتانی میں ورلڈ کپ فائنل کھیلا اس کے کوچ مشتاق محمد تھے۔

شیئر: