Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ڈائیٹنگ کے باوجود توند ختم نہیں ہوتی؟

آپ کتنا کھا رہے ہیں سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ کیا کھا رہے ہیں اہم ہے۔ فوٹو فری پک
موٹاپے کا شکار افراد اپنا وزن کم کرنے کے لیے ہر طرح کے جتن کرتے ہیں لیکن وہ احتیاطی تدابیر کے باوجود چار ایسی غلطیاں کر رہے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے موٹاپے اور زائد وزن سے ان کی جان نہیں چھوٹتی۔
غذائیت اور کھیلوں کے لیے خاص ’ٹرائفیکٹا نوٹریشن‘ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق کچھ لوگ باقاعدگی سے ورزش کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور ان کا وزن کم ہوجاتا ہے تاہم انھیں اپنی ’توند‘ کے سائز میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی ہے۔ جس سے انہیں  مایوسی کا احساس ہوتا ہے۔
’اسکائی نیوز عربیہ‘ کے مطابق  توند کے سائز کو کم کرنے میں ناکامی کا نتیجہ ان افراد کی چار غلطیوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو فٹنس کو بہتر کرنے کے لیے ورزش اور غذا کا استعمال کرتے ہیں۔

کیلوریز

عام طور پر لوگ توند کے سائز کی شکایت کرتے  نظر آتے ہیں حالانکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ  بڑی موثر ڈائیٹنگ پر عمل پیرا ہیں جبکہ وہ اب بھی اپنی ضرورت سے زیادہ کیلوریز استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

جو شخص اپنا وزن کم کرنا چاہتا ہے اسے جسم میں روزانہ ضرورت سے کم کیلوریز کی ضرورت ہے۔ فوٹو فری پک

جو شخص اپنا وزن کم کرنا چاہتا ہے اسے جسم میں روزانہ ضرورت سے کم کیلوریز کی ضرورت ہے کیونکہ یہ اضافی توانائی ہے جو چربی میں بدل جاتی ہے۔
اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیےماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جو کھائیں اس کی پیمائش کرنے کی کوشش کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ کیلوریز کی تعداد کو ایڈجسٹ کیا جا سکے۔ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے اسے درست کر سکیں۔
بازار سے خریدے جانے والے کچھ کھانوں میں چربی، کاربوہائیڈریٹ اور  دیگر اجزا  کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ اب ایسی سمارٹ ایپلی کیشنز موجود ہیں جو اس معاملے میں مدد کر سکتی ہیں۔
ورزش کی کمی
دوسری بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم درست انداز میں ورزش نہیں کرتے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی حکمت عملی بدلنا چاہیے اور جسم کے لیے ایسے مشقتی  کام تلاش کرنے چاہییں جن کی طرف وہ آہستہ آہستہ مائل ہو۔ا س کے ساتھ جسم کو سخت کام کرنے کے لیے بھی تیار کرنا چاہیے۔

ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ درست انداز میں ورزش نہیں کی جاتی۔ فوٹو فری پک

ماہرین  کے مطابق ورزش کے لیے جم یا کلب جانا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آپ ورزش کس طرح کی کرتے ہیں اور مشقت و ورزش سے اپنی کس قدر کیلوریز جلا سکتے ہیں۔ اسی طرح وزن اٹھانے مشقت کرنے اور جسم کو بھاری کاموں کے لیے تیار کرنے سے وزن میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
کھانے کی قسمیں اور مقدار
تیسری بڑی غلطی جو عموماً لوگ وزن کم کرنے کے لیے کرتے ہیں وہ کھانا کم کھانا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کھانا کم کھانے سے وزن پر کنٹرول پا لیں گے جبکہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ کھانے کی مقدار سے زیادہ اس کی کیفیت اہم ہوتی ہے۔آپ کتنا کھا رہے ہیں کے بجائے آپ کیا کھا رہے ہیں اہم ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص دن میں صرف ایک برگر کھالے اور یہ سمجھے کہ اس نے آج کم کھایا ہے یہ اس کےلیے نقصان دہ ہوگا کیونکہ ایک برگر سے بے شمار کیلوریز جسم میں چلی جاتی ہیں۔ اس سے چربی  پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بجائے پٹھوں کو مضبوط کرنے والی غذائیں کھانی چاہییں۔

 اگر کوئی ایک برگر کھا کر سمجھے کہ اس نے کم کھایا ہے تو وہ غلطی پر ہے کیونکہ میں بے شمار کیلویریز ہوتی ہیں۔ فوٹو فری پک

تناؤ
چھوتھی بڑی غلطی تناؤ ہے یہ انسانی صحت کے لیے نصان دہ ہے کیونکہ یہ ہارمون ایڈرینالین میں نمایاں اضافے کا باعث بنتا ہے جو دل کی دھڑکن اور سانس لینے کی فریکوینسی میں اضافہ کرتا ہے اور جسم کو فوری طور پر توانائی کی فراہمی کے لیے گلوکوز اور چربی کے ذخیرے بڑھانے پر ابھارتا ہے تاہم جیسے ہی ہارمون اینڈرینالائن کم ہوجاتا ہے، جسم ہارمون کولیسٹرول کو جاری کرتا ہے جو بھوک میں اضافہ کرتا ہے اور توانائی پیدا کرنے کے لیے پٹھوں کی طاقت کا استعمال کرتا ہے جس سے وہ کمزور ہو جاتے ہیں۔

شیئر: