Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

حوثی باغیوں کی قید سے یمنی صحافیوں کی رہائی، ’پانچ برس تشدد سہا‘

ان افراد کو قیدیوں کے تبادلے میں اکتوبر میں رہا کیا گیا (فوٹو: اے ایف پی)
ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی قید سے رہا ہونے والے پانچ یمنی صحافیوں نے اپنی روداد سناتے ہوئے بتایا ہے کہ قید کے دوران ان پر کیسے پانچ برس تک تشدد کیا جاتا رہا۔
عرب نیوز کے مطابق قید کے دوران ان صحافیوں کو جیل کی ایک کوٹھری سے دوسری میں منتقل کیا جاتا رہا، تنہائی میں رکھا گیا اور انہیں خوراک، پانی اور دوائیاں دینے سے انکار کیا گیا۔
ان افراد کو یقین ہے کہ انہیں مئی میں کورونا ہو گیا تھا کیونکہ انہیں سانس کی تکلیف سمیت جوڑوں اور سر میں درد رہا۔ جیل کے ڈاکٹر نے اس بات کو نہ مانا کہ انہیں کورونا ہے اور انہیں خوراک میں مالٹے اور پیاز شامل کرنے کا مشورہ دیا۔
حشام ترموم، حسن انب، عسام بلگھایت، حیتھم الشہاب اور حشام الیوسف ان نو صحافیوں میں شامل تھے جنہیں جون 2015 میں صنعا کے ایک ہوٹل سے پکڑا گیا۔
عسام بلگھایت کا کہنا ہے کہ درجنوں حوثی باغی ان کے ہوٹل میں گھس آئے اور ان کے ساتھ جرائم پیشہ افراد جیسا سلوک کیا گیا۔
’میں باتھ روم سے باہر نکلا تو کمرے میں مسلح افراد کو دیکھا۔ جب ہم نے ان کی شناخت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ انہوں نے ہمارے موبائل فونز اور لیپ ٹاپس چھین لیے اور ہمیں ایک فوجی گاڑی میں دھکیل دیا۔‘
حسن انب نے کہا کہ ان کے سیل سے ایک پین برآمد ہونے پر حوثیوں نے انہیں مارا۔ جیل کے ڈائریکٹر یحییٰ ساریا اور دیگر گارڈز باری باری ان پر تشدد کرتے رہے۔
’وہ میری پشت پر سر سے پاؤں تک رات نو بجے سے صبح تین بجے تک چھریوں کے وار کرتا رہا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ میں نے پین کہاں سے حاصل کیا۔‘

حیتھم الشہاب نے کہا کہ ان کی حالت بگڑ گئی تھی اور حوثیوں نے انہیں ناکافی دوائیاں دیں (فوٹو: اے ایف پی)

جب حسن نے بولنے سے انکار کیا تو انہوں نے ان کو ایک تاریک اور چھوٹے سے سیل میں بند کر دیا۔ ’میں وہاں سو نہ سکا کہ کیونکہ کمرے میں ہوا نہ آنے کی وجہ سے آکسیجن کی کمی تھی۔‘
حیتھم الشہاب نے کہا کہ ان کی حالت بگڑ گئی تھی اور حوثیوں نے انہیں ناکافی دوائیاں دیں۔ ’جب میں نے ان سے نزلے کی دوا مانگی تو انہوں نے مجھے نیند کی گولیاں دے دیں جس سے میرے سر میں شدید درد شروع ہو گیا۔‘
ان افراد کو قیدیوں کے تبادلے میں اکتوبر میں رہا کیا گیا۔ الیوسف کا کہنا ہے کہ ’ہم نے جیل میں ایک ہزار 955 دن گزارے جو درد اور تکلیف میں گزرے۔‘

شیئر: