Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عربی خطاطی کا سال 2020، فن کو نئی زندگی مل گئی

فن کی شکل اختیار کرنے سے قبل خطاطی دستاویزات کا ذریعہ تھی۔(فوٹو عرب نیوز)
مملکت میں 2020 کو عربی خطاطی کا سال قرار دیا  گیا ہے جس کے باعث اس فن کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق سعودی عرب کے متعدد شہروں میں خواتین اور حضرات دونوں کے لئے سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
ان سیشنز میں شرکا کو موقع فراہم کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو عربی خطاطی کے ورثے سے دوبارہ مربوط کرلیں۔

عربی خطاطی شائقین فن میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ مختلف نظریات اور گزارشات وصول کرنے اور ان کی حمایت  کرنے کے لئے دیگر پلیٹ فارمز بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔
خطاط  ریم القحطانی سے جب سوال کیا گیا کہ آج کل خواتین عربی خطاطی کی حیات نو میں بہت دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اس کی وجہ کیا ہے ؟
ریم القحطانی نے کہا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ خواتین حُسن سے محبت کرتی  ہیں تاہم محض جمالیات ہی اس کا محرک نہیں۔ جو لوگ خطاطی  سیکھنے کا آغاز کرتے ہیں انہیں جلد ہی اس حقیقت کا علم ہو جاتا ہے کہ یہ نظم، توازن اور تناسب جیسی خصوصیات کی حامل ہے نیز یہ کہ اس کی تعمیل و تکمیل کے لئے تحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔

ریم القحطانی نے کہا کہ عربی خطاطی کے سال کے دوران مردوں اور خواتین کے مابین روابط میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس کا خاص سبب  یہ ہے کہ معاشرے کے تمام طبقات کے لئے متنوع سرگرمیوں کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔
یہ جذبہ اُن تمام لوگوں کے ساتھ رہے گاجنہیں عربی خطاطی اور اسلامی وضع قطع کے بارے میں سیکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
اس سوال پر کہ فن خطاطی جیسے ورثے کو نوجوانوں میں کیسے محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ ریم القحطانی نے کہا کہ عربی خطاطی تاریخی طور پر انکشافات کی تحریرہے۔
فن کی شکل اختیار کرنے سے قبل خطاطی دستاویزات کا ایک آلہ تھی۔

حرمین شریفین کے لوگوں کے لئے یہ ایک ترجیح ہے کہ ہم اس عظیم ورثے کو محفوظ کریں۔
ہمیں یہ فن سیکھنا چاہئے اور اسے نسل نو کو منتقل کرنا چاہئے  تاکہ وہ  دیرینہ اسلامی اقدار پر فخر کر سکیں۔
ریم نے تمام سرکاری اور نجی اداروں پر زور دیا کہ وہ عربی خطاطی کے کردار کو فروغ دینے کے لئے مختلف اقدامات کریں اور متنوع سرگرمیوں کا آغاز کریں۔
عظیم مسجد کے خطاط  ابراہیم الرفیع نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی ترقی کی روشنی میں عربی خطاطی کی اہمیت اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ یہ باہمی روابط کا ذریعہ تصور کی جاتی ہے اسی لئے تمام تر تیز رفتار ترقی کے باوجود زیادہ سے زیادہ لوگ یہ فن سیکھ رہے ہیں۔
الرفیع نے کہا کہ خطاطوں کے اوزار خواہ کتنے ہی قدیم کیوں نہ ہوں، وہ ا نہیں کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے  مربوط کر سکتے ہیں۔
کمپیوٹر کے حروف معیاری ہوتے ہیں مگرخطاط کے الفاظ اس کے ذاتی ہوتے ہیں، خطاط کی اپنی ہی چھاپ ہوتی ہے۔ اس کی لائنیں خطاط کی شناخت، اس کی شخصیت، انفرادیت اور فخر کا اظہار کرتی ہیں کیونکہ وہ کلاسیکی تحریر کو اپنے دور کی جمالیات اور اس کی روح میں شامل کر دیتا ہے۔
عربی تحریر،زبان اوررابطے کے ذریعے کے طور پر اس کے استعمال کے تسلسل کو محفوظ رکھتی ہے ۔ جمالیاتی اور بصری طور پرزبان کا انتہائی اہم اوزارعربی خطاطی ہے جو غیر زبانیں بولنے والوں کو بھی اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ابراہیم الرفیع نے کہا کہ جمالیاتی طور پر عربی خطاطی طالب علم میں فن کے شوق کو فروغ دیتی ہے۔
یہ فن درحقیقت لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے ۔ ان میں سے کئی لوگ خطاط سے اپنا نام لکھوانے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں یا اپنے تاثرات کو تحریری شکل میں منتقل کرنے کے لئے کہتے ہیں۔
خطاط اپنے فن میں جس قدر مہارت حاصل کرتا ہے اتنا ہی وہ معاشرے کے تمام گروپوں سے مربوط ہوتا جاتا ہے۔
 

شیئر: