Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ٹیلیگرام کے سبسکرائبرز میں اڑھائی کروڑ کا اضافہ

ٹیلیگرام کے مجموعی صارفین کی تعداد 50 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے (فوٹو: پکسابے)
واٹس ایپ کی جانب سے پرائیویسی پالیسی میں تبدیلیوں کے اعلان کے بعد متبادل تلاش کرتے صارفین مخلتف ایپس ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں اور گزشتہ چند گھنٹوں میں میسیجنگ ایپلیکیشن ٹیلیگرام کے صارفین میں اڑھائی کروڑ کا اضافہ ہوا ہے۔
ٹیلیگرام کی جانب سے کیے گئے اعلان اور اس کے ساتھ جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق حالیہ اضافے کے بعد ایپلیکیشن کے فعال اکاؤنٹ رکھنے والے مجموعی صارفین کی تعداد پچاس کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔
میسیجنگ ایپلیکیشن کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق اڑھائی کروڑ نئے صارفین میں سے 38 فیصد کا تعلق ایشیا سے، 27 فیصد یورپ سے جب کہ 21 فیصد لاطینی امریکہ اور آٹھ فیصد نے مشرق وسطی سے ایپ کو جوائن کیا ہے۔

ٹیلیگرام کے مطابق حالیہ اضافہ گزشتہ برس کے مقابلے میں خاصا زیادہ ہے۔
ایپ کا کہنا ہے کہ اپنے سات سالہ عرصے میں ہم کئی مرتبہ استعمال میں ایسا اضافہ نوٹ چکے ہیں لیکن اس مرتبہ یہ کچھ الگ ہے۔
ٹیلیگرام نے بات یہی تک محدود نہیں رکھی بلکہ مدمقابل ایپس کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ہم اس وقت پرائیویسی اور سیکیورٹی کے حواہشمند صارفین کے لیے پناہ گاہ بن چکے ہیں۔ ہم اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور صارفین کو نقصان نہیں اٹھانے دیں گے۔‘
ٹیلیگرام کی جانب سے صارفین کی تعداد میں اضافے کے اعلان پر ردعمل دینے والے صارفین میں سے کچھ نے ان سے پوچھا کہ ’وہ اتنے خاص کیسے ہوئے‘ تو کوئی یہ تقاضا کرتا رہا ہے کہ اضافے کو گراف کی صورت دکھایا جائے۔ 
ٹیلیگرام کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ’آپ (ہمارے صارفین) ابھی اور آئندہ ہماری واحد ترجیح رہیں گے۔ دوسری ایپلیکیشنز کی نسبت ٹیلیگرام نے نہ تو شیئرہولڈرز کو اور نہ ہی اشتہار دینے والوں کو جواب دینا ہے۔ ہم مارکیٹیرز، ڈیٹا مائنرز، یا حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ کام نہیں کرتے۔ اگست 2013 میں لانچ کیے جانے کے بعد سے اب تک ہم نے اپنے صارفین کے پرائیویٹ ڈیٹا کا ایک بائٹ بھی تھرڈ پارٹی سے شیئر نہیں کیا‘۔ 
متبال ایپس کی تلاش کے نتیجے میں دیگر ایپلیکیشنز کی طرف صارفین کا رجوع ٹیلیگرام تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ ایک اور ایپ سگنل بھی میدان میں موجود ہے۔
گزشتہ چند روز سے ٹوئٹر پر واٹس ایپ کی سرگرمیوں کو براہ راست نشانہ بنانے والی ایپلیکیشن نے بدھ کی صبح اپنے صارفین کے لیے مختلف زبانوں میں ڈیزائن کیے گئے پیغامات شیئر کیے تو کہا کہ اپنی سابقہ ایپ (واٹس ایپ) کی چیٹ میں انہیں یہ سگنل ضرور دیں۔
سگنل چند روز قابل بازار حصص میں ’سگنل‘ نامی ایک کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں اچانک اضافے کا ذکر کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر یہ بھی بتا چکی ہے سٹاک مارکیٹ میں جس ’سگنل‘ میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے وہ کوئی اور ہے۔
میسیجنگ ایپ کی دنیا میں سگنل کو بھی واٹس ایپ کا مضبوط متبادل سمجھا جاتا ہے۔ پرائیویسی اور سیکیورٹی معاملات پر نظر رکھنے والے ٹیکنالوجی ماہرین سگنل ایپ کو خاصا بہتر قرار دیتے ہیں۔

شیئر: