Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کورونا ویکسین کے لیے پاکستانیوں کا انتظار کب ختم ہوگا؟

پاکستان نے چین اور برطانیہ کی ویکسین کی مظوری دے رکھی ہے۔ فوٹو اردو نیوز
دنیا کے 56 ممالک میں تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سے زائد افراد کو کورونا وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کے لیے ویکسین لگائی جا چکی ہے جبکہ پاکستان میں عوامی سطح پر ویکسین کی فراہمی کی حتمی تاریخ ابھی تک طے نہیں ہو پائی۔
حکومت کے مطابق ویکسین کی فراہمی کی حتمی تاریخ کے حوالے سے تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ 
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے پہلے ہی چین کی سائنو فارم ویکسین اور برطانیہ کی ایسٹرا زینکا کے ایمریجنسی استعمال کی منظوری دے دی ہے۔
جبکہ روس کی سپتنک فائیو ویکسین کی منظوری بھی آخری مراحل میں ہے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 70 فیصد بالغ آبادی کو حکومت مفت ویکسین فراہم کرے گی۔ لیکن ویکسین کی فراہمی کب تک ممکن ہو سکے گی، یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
عالمی جریدے بلوم برگ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا کے 56 ممالک میں روزانہ اوسطاً 33 لاکھ لوگوں کو ویکسین لگائی جا رہی ہے۔
پاکستان کے پڑوسی ممالک چین اور انڈیا نا صرف ویکسین لگانا شروع کر چکے ہیں بلکہ دونوں ممالک ویکسین بنا کر خطے کے دیگر ممالک کو بھی فراہم بھی کر رہے ہیں۔
جبکہ بنگلہ دیشں میں 27 جنوری سے ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو جائے گا اور 8 فروری سے قومی مہم کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ خطے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور انڈونیشیا میں بھی ویکسین لگانے کا عمل جاری و ساری ہے۔

پاکستان میں عوامی سطح پر ویکسین کب ملے گی؟

گزشتہ ہفتے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بیان دیا تھا کہ چین کی طرف سے پانچ لاکھ ویکسین کی خوراکیں پاکستان کو بطور تحفہ31 جنوری سے قبل فراہم کر دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ حکومت کے مطابق یہ ویکسین کورونا کے خلاف کام کرنے والے فرنٹ لائن طبی عملے کے لیے ہو گی۔

حکومت نے 70 فیصد بالغ آبادی کو مفت ویکسین فراہم کرنے کا کہا ہے۔ فوٹو اے ایف پی

اس کے بعد ڈاکٹر فیصل سلطان نے اس امید کا اظہار کیا کہ 31 مارچ تک ویکسین کی 11 لاکھ خوارکیں حاصل کر لی جائیں گی جو کہ ساڑھے پانچ لاکھ ایسے افراد کے لیے استعمال ہوں گی جو صحت کے شعبے میں کام کرتے ہوں گے۔
اس کے بعد 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو ترجیح دی جائے گی اور پھر 60 سال سے زائد افراد کی باری آئے گی۔ جبکہ آخر میں 18 سال سے زائد عمر کے باقی لوگوں کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔ 
چونکہ پاکستان میں منظور ہونے والی ویکسین کی دو خوارکیں فی شخص کو لگتی ہیں اس لیے یہ تمام انتظام تو ابھی ساڑھے پانچ لاکھ لوگوں کا ہوا ہے۔
پاکستان کے باقی عوام کے حوالے سے فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ کوشش ہو گی کہ باقی آبادی کا انتظام بھی مارچ کے بعد فوراً کیا جائے۔
اس سلسلے میں انہوں نے امید دلائی کہ چین کی ہی ایک اور ویکسین کین سائنو کی طرف سے پاکستان کو ویکسین کی دو کروڑ خوراکوں کا وعدہ ہے تاہم اس کا دارومدار کین سائنو کے ٹرائلز کی کامیابی پر ہے۔
 یاد رہے کہ اس ویکیسن کے ٹرائل کا تیسرا مرحلہ پاکستان میں جاری ہے اور ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق اس کے نتائج فروری کے شروع میں متوقع ہیں۔ اگر اس کے نتائج کامیاب ہوئے تو پاکستان کی ایک کروڑ آبادی کے لیے کورونا ویکسین کی امید پیدا ہو جائے گی۔
اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی طرف سے منظور شدہ غریب ملکوں کے لیے ویکسین کی مشترکہ خریداری کا پروگرام ’کو ویکس‘ بھی پاکستان کی 20 فیصد تک آبادی کو کورونا کی ویکیسن فراہم کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔

آخر میں 18 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ویکسین فراہم کی جائے گی۔ فوٹو اے ایف پی

حکومت کا ہدف کیا ہے؟

ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ 70 فیصد آبادی کو حکومت خود فری ویکیسن مہیا کرے جبکہ پرائیویٹ سیکٹر کو بھی ویکسین کی اجازت دی گئی ہے تاکہ جو لوگ جلد پرائیویٹ سطح پر ویکسین لگوانا چاہیں انہیں بھی یہ سہولت بنا انتظار مہیا ہو سکے۔
وزارت کی طرف سے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں سے 12 کروڑ آبادی ایسی ہے جس کی عمر 18 سال سے کم ہے جبکہ ویکسین صرف اٹھارہ سال سے زائد عمر کے بالغ افراد کے لیے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے حکومت مفت ویکسین کی فراہمی کی کوشش کرے گی۔
پہلے مرحلے میں فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو ویکسین لگائی جائے گی۔ اس حوالے سے چار لاکھ سے زائد ورکر رجسٹر ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد مرحلہ وار باقی آبادی کو ویکیسن مہیا کی جائے گی۔ اس سلسلے میں حکومت نے ابتدائی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جس میں ویکسین کی سٹوریج اور سپلائی کے نظام کو بہتر کرنا، ویکسین لگانے والے عملے کی تربیت اور دیگر تکینکی تیاریاں شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی فراہمی کے علاوہ اس کی سپلائی بھی اہم ہے کیونکہ یہ کم درجہ حرارت میں رکھنی اور لے جانی ہوتی ہے اس لیے اس کو سٹور کرنے کا مربوط انتظام مرتب کرنا ضروری تھا۔ اس سلسلے میں حکومتی سطح پر ای پی آئی کے نام سے بچوں کی ویکسین لگانے کا پروگرام چل رہا تھا، اس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور اس کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے۔ 
دوسری طرف پرائیویٹ سیکٹر کو ویکسین درآمد کرنے میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

ویکسین لگاتے وقت شعبہ صحت سے منسلک افراد کو ترجیح دی جائے گی۔ فوٹو اے ایف پی

ویکسین کی رجسٹریشن کا عمل تیز کر لیا گیا ہے۔ اب پرائیویٹ سیکٹر رجسٹر ہونے والی ویکسین کو ملک میں لا کر لوگوں کو فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم  سندھ میڈیکل سٹور نامی جس کمپنی کو پاکستان میں ایسٹرا زینکا کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے وہ اس معاملے پر پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے اور میڈیا کی طرف سے مسلسل رابطے کے باجود کمپنی عہدیداران کسی ٹائم لائن کے بارے میں بتانے سے گریز کر رہے ہیں۔ 
تاہم اسلام  آباد کے سب سے بڑے پرائیویٹ ہسپتال شفا انٹرنیشنل کے ترجمان شجاع روؑف کے مطابق فروری کے وسط تک شفا ہسپتال میں کورونا کی ویکیسن لگنے کا سلسلہ شروع ہونے کی امید ہے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہسپتال انتظامیہ کی ڈریپ کی طرف سے منظور ہونے والی دونوں ویکیسینز (سائنوفارم اور ایسٹرا زینیکا) کے ڈسٹری بیوٹر سے بات چیت ہوئی ہے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں کولڈ سٹوریج کی سہولت میسر ہے۔ یاد رہے کہ پہلے ہی ہسپتال میں چین کی بنی کورونا ویکسین کے ٹرائیل کیے جا رہے ہیں۔

ویکسین کی قیمت کا تعین کون کرے گا؟

پاکستان میں پرائیویٹ سطح پر ویکسین حاصل کرنے والے افراد کو کیا قیمت ادا کرنا ہو گی اس حوالے سے بھی حکومت اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے۔
اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر میں دستیاب ویکیسن کی قیمت کا تعین وفاقی حکومت ڈریپ بورڈ کی مشاورت سے کرے گی اور اس سلسلے میں میکنیزم بنایا جا رہا ہے۔

چین کی ویکسین کے ٹرائل کا تیسرا مرحلہ پاکستان میں جاری ہے۔ فوٹو اے ایف پی

تاہم ڈریپ کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق قیمتوں کا تعین اتنا سادہ نہیں ہے۔
'ڈریپ پاکستان میں ادویات کی قیمتیں متعین کرتے ہوئے یہ دیکھتی ہے کہ خطے کے دیگر ممالک میں انہی ادویات کی کیا قیمت ہے جبکہ کورونا ویکسین کے حوالے سے خطے میں کوئی ریفرنس پرائس موجود نہیں ہے‘
ان کا کہنا تھا کہ ویکسین بنانے والی کمپنیاں ہر ملک میں راز داری کے معاہدے کرتی ہیں اور طے ہونے والی قیمت کو مخفی رکھتی ہیں اس لیے پاکستان کو اپنے طور پر مذاکرات کرنے ہوں گے اور دیکھنا ہو گا کہ قیمت کم کروانی ہے یا سپلائی یقینی بنانی ہے۔
مقامی میڈیا میں سندھ میڈیکل سٹور کے عثمان غنی سے منسوب بیان کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر میں ایسٹرا زینکا ویکسین کی ایک خواراک کی قیمت 6 سے 7 ڈالر ہوگی۔
تاہم اردو نیوز کی طرف سے سندھ میڈیکل سٹور کی ویب سائٹ پر موجود نمبر پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ویکسین کی قیمت کے بارے میں جواب دینے سے انکار کر دیا اور ای میل پر رابطہ کرنے کا کہا۔
سوالات بھیجنے کے بعد بھی تین دن تک ای میل کا جواب بھی نہیں دیا گیا۔ ایک ڈریپ عہدیدار کے مطابق کمپنی ویکیسن کی قیمت کے حوالے سے مبہم بیان دے کر غلطی کر چکی ہے کیونکہ حکومتی سطح پر قیمت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ 
ڈریپ کے ترجمان اختر عباس کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کا بورڈ ماہرین کی مشاورت سے ویکسین کی قیمت کا تعین کر کے وزارت صحت کو بھیجے گا جس کے بعد حتمی فیصلہ جلد کر لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں کا تعین وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔

شیئر: