Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

امریکہ کا فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا اعلان

دوسرے ممالک ٖپر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر زور دیتے رہیں گے( فوٹو اے ایف پی)
امریکہ میں جو بائیڈن انتظامیہ نے منگل کو فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے امداد کی تجدید کا اعلان کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں قائم مقام امریکی سفیر رچرڈ ملر نے سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ’ امریکی صدر جو بائیڈن کی مشرق وسطی پالیسی باہمی اتفاق سے دو ریاستی حل کی حمایت کرے گی جس میں اسرائیل امن اور سلامتی کے ساتھ رہے اور ایک قابل وجود فلسطینی ریاست بھی پہلو بہ پہلو موجود رہے‘۔
عرب نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ’ بائیڈن انتظاامیہ فلسطینوں کی امداد کی بحالی اور ٹرمپ انتطامیہ نے جو سفارتی مشن بند کردیے تھے انہیں دوبارہ کھولنے کے لیے اقامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے‘۔
رچرڈ ملر کا کہنا تھا کہ ’ امریکہ دوسرے ممالک ٖپر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے پر زور دیتا رہے گا تاہم اس بات کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطین کے امن کا کوئی متبادل نہیں ہے‘۔
سبق نیوز کے مطابق رچرڈ ملز نے کہا کہ امریکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کو ایسے یکطرفہ اقدامات سے باز رکھنے کی کوشش کرے گا جو دو ریاستی حل کو مزید مشکل بناتے ہوں۔
خیال رہے کہ بائیڈن نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ اس بات کے مخالف ہیں کہ اسرائیل مزید فلسطینی علاقوں کو اپنی خودمختاری میں شامل کرے۔ 
الشرق الاوسط کے مطابق عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل نے منگل کو ’مقبوضہ فلسطینی علاقوں سمیت مشرق وسطی کی صورتحال‘ پر بحث کے لیے منعقدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے تھا کہ عالمی برادری ابھی تک فلسطین اسرائیل تنازع ختم کرانے کے لیے دو ریاستی حل پر متفق ہے۔

 مشرق وسطی کی صورتحال پر بحث کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس ہو ا ہے( فوٹو ٹوئٹر)

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اب تک رائے یہی ہے کہ مقبوضہ عرب علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیرغیرقانونی ہے۔ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا غیر قانونی ہے اور یہ مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کے اصول کے بھی منافی ہے۔
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی رائے اب تک یہی ہے کہ اسرائیل اور خودمختار فلسطینی ریاست کے درمیان مستقبل کی سرحدیں متعین کرنے کے سلسلے میں 1967 کی سرحدیں ہی قابل قبول ہیں۔

شیئر:

متعلقہ خبریں