Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آن لائن یا ان کیمپس امتحانات کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں طلبہ آن لائن امتحانات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان میں اعلٰی تعلیم کے ریگولیٹری ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے یونیورسٹیوں کے طالب علموں کی جانب سے آن لائن امتحانات کے حوالے سے مطالبات کا نوٹس تو لیا مگر بدھ کو اپنے ایک اہم اجلاس کے بعد معاملہ یونیورسٹیوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا، تاہم دونوں صورتوں کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
لاہور میں پیر کو آن لائن امتحانات کے لیے پرتشدد مظاہروں کے بعد طلبہ اور اساتذہ کی نظریں ایچ ای سی کے اجلاس پر مرکوز تھیں مگر وہاں سے بھی مسئلے کا کوئی حل سامنے نہیں آیا۔
 پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں طلبہ آن لائن امتحانات کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔

 

منگل کو لاہور میں یہ احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گیا جب نجی یونیورسٹی کے طلبہ احتجاج کے دوران تصادم میں نہ صرف زخمی ہو گئے بلکہ پولیس نے 500 سے زائد طلبہ پر توڑ پھوڑ اور نقص امن کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا۔
ایچ ای سی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے یونیورسٹیوں کے طالب علموں کی جانب سے آن لائن امتحانات کے حوالے سے مطالبات کا نوٹس لیا ہے اور اس حوالے سے کمیشن نے ملک بھر کی یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کے ساتھ مشاورت کی۔
ایچ ای سی کے بدھ کو جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ امتحانات کے حوالے سے پہلے ہی ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر گائیڈ لائنز موجود ہیں جن میں پہلے ہی یونیورسٹیوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہیں تو کیمپس میں طلبہ کو بلا کر امتحان لیں یا آن لائن امتحانات منعقد کریں بشرطیکہ طلبہ کی کارکردگی کا منصفانہ جائزہ لیا جائے۔
اعلامیے کے مطابق یونیورسٹیوں کو امتحانات کے حوالے سے اپنی تیاری کا جائزہ لینا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ وہ تکینکی، انتظامی اور دیگر حوالوں سے کس طرح کے امتحانات کے لیے تیار ہیں۔
 آن لائن امتحان میں یونیورسٹیوں کو کیا کرنا ہو گا؟
ایچ ای سی کے مطابق یونیورسٹیاں آن لائن امتحان اس صورت میں لیں اگر ان کے پاس ’اوپن بک ایگزام‘ کا نظام موجود ہو یا پھر ایسا نظام ہو کہ امتحان دیتے طلبہ کی نگرانی کی جا سکے۔
اس صورت میں یونیورسٹیوں کو ’ٹرن اٹ ان‘ نامی سوفٹ ویئر کے ذریعے نقل اور سرقہ کو بھی چیک کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ آن لائن امتحانات کے لیے یونیورسٹیوں کو بعد میں زبانی ٹیسٹ یا ’وائیوا‘ کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

لاہور میں نجی یونیورسٹی کے طلبہ احتجاج کے دوران تصادم میں زخمی ہو گئے (فوٹو: اردو نیوز)

کیمپس میں امتحانات کے لیے کیا کرنا ہوگا؟
ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں کو ہدایت کی ہے کہ آن کیمپس امتحانات کی صورت میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ آن کیمپس امتحان کی صورت میں اگر طلبہ کو لگے کہ کورس کور نہیں ہوا تو یونیورسٹیوں کو امتحان سے قبل دو ہفتوں کی خصوصی کلاسز کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔
ایسے تمام کورسز جن میں سائیکوموٹر سکلز درکار ہوں جیسے طب، انجینئرنگ یا ایسے مضامین جن میں لیبارٹری یا سٹوڈیو درکار ہو ان کے امتحانات صرف کیمپس میں ہی منعقد ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں کے لیے یہ بھی لازم کیا ہے کہ کسی ایک کورس میں داخل تمام طلبہ سے ایک ہی طریقے سے امتحان لیا جائے۔
یاد رہے کہ یکم فروری سے پاکستان میں یونیورسٹیاں آن کیمپس تعلیم کے لیے کھل رہی ہیں۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ ’مارچ 2020 سے کمیشن مسلسل کورونا وبا کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر کوشش کر رہا ہے کہ طلبہ کا کم سے کم تعلیمی نقصان ہو۔ اس سلسلے میں تمام ہدایات ایچ ای سی کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

شیئر: