Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران جوہری پروگرام کے حوالے سے ذمہ داری کا مظاہرہ کرے: روس

جوہری توانائی ایجنسی نے ایرانی پلانٹ میں یورینیم میٹل بننے کی تصدیق کی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی
روس نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کے حوالے سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا کہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’یورینیم میٹل‘ بنانا شروع کر دیا ہے جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں اہم مواد سمجھا جاتا ہے۔
روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے لیے گئے اقدامات کی وجوہات سے روس آگاہ ہے، لیکن اس کے باوجود تحمل اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے بدھ کو تصدیق کی تھی کہ ایران کے جوہری توانائی کے پلانٹ میں 3.6 گرام گرام کا یورینیم میٹل  تیار کیا گیا ہے۔
2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کے تحت ایرن پر آئندہ 15 برس کے لیے پلوٹونیم یا یورینیم میٹل کے حصول پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
گزشتہ ماہ ایران نے کہا تھا کہ وہ یورینیم میٹل کی تیاری پر تحقیق کر رہا ہے۔
روسی نائب وزیر خارجہ کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب نے جمعرات کو عراق کے ساتھ سرحد کے قریب جنگی مشقوں کا آغاز کیا۔
ان جنگی مشقوق میں ڈرون اور ہیلی کاپٹر کا بھی استعمال کیا جائے گا۔
گزشتہ چند ماہ میں ایران کی جانب سے جنگی مشقوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ دوسری جانب ایران نئی امریکی حکومت پر جوہری معاہدے کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد ایران نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ جوہری معاہدے کو بچانے کی مہلت ختم ہو رہی ہے۔
 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر سخت معاشی پابندیاں نافذ کر دی تھیں۔
صدر جو بائیڈن نے جوہری معاہدے کی بحالی کا عندیہ دیا ہے لیکن ساتھ ہی انہوں نے اسے ایران کے یورینیم افزودگی کے پروگرام سے مشروط کر دیا ہے۔ صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ معاہدے کی بحالی سے پہلے ایران کو یورینیم افزودگی کے پروگرام کو روکنا ہوگا۔

شیئر: