Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اچھی صحت کے لیے کتنے گھنٹے سونا ضروری ہے؟

نیند کی کمی چاہے اپنی مرضی سے ہو پھر مجبوری کی حالت میں، اگلے دن نیند کا تقاضا بڑھ جاتا ہے (فوٹو: سیدتی)
نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یہ جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ نیند میں کمی کی صورت میں انسان کے روزمرہ معاملات اور صحت میں توازن برقرار نہیں رہتا۔
عرب جریدے سیدتی میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ماہرین صحت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زندگی کے مختلف مراحل میں نیند کی ضرورت مختلف ہو جاتی ہے۔ یہاں اہم سوال یہ ہے کہ نوجوانوں کے لیے کتنے گھنٹے نیند ضروری ہوتی ہے؟َ مکمل نیند نہ کرنے کے کیا نقصانات ہیں؟
اس بارے میں سیدتی کی جانب سے ڈاکٹر جنات عبدالہادی کے ساتھ بات کی گئی جس میں انہوں نے کافی مفید باتیں بتائیں۔

 

نیند کیوں ضروری ہے؟

نیند کی بدولت جسمانی اور ذہنی تھکن سے نجات ملتی ہے، ہارمونز کی افزائش ہوتی ہے اور وہ متوازن حالت میں رہتے ہیں جو جسمانی طاقت بڑھانے اور پٹھوں کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
اس سے مدافعتی قوت کے لیے اینٹی باڈیز تیار ہونے میں مدد ملتی ہے۔
نیند کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس کے دوران سارے دن میں حاصل ہونے والی معلومات کو ذہن ترتیب دیتا ہے، مفید معلومات سٹور کرلیتا ہے اور دیگر حذف کر دیتا ہے۔

بے خوابی سے انسانی زندگی کے معاملات پر منفی اثر کے علاوہ بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے (فوٹو: سیدتی)

نیند کی کمی کے اثرات

نیند کی کمی سے تھکاوٹ اور توانائی کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ نیند کی کمی چاہے اپنی مرضی سے ہو یا پھر مجبوری کی حالت میں، اگلے دن نیند کا تقاضا بڑھ جاتا ہے۔ نیند کی متواتر اور مستقل کمی سے نیند جمع ہوتی جاتی ہے جو جمائی کی صورت میں انسان بار بار محسوس کرتا ہے تاہم نیند کی بحالی کے بعد یہ صورت حال کم ہوتی جاتی ہے، نیند کی کمی یا ناکافی نیند کی صورت میں کئی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
 نیند کی کمی تھکن کا باعث ہوتی ہے، یہ حالت کمزوری اور یادداشت میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے، دیگر باتوں میں چڑچڑاپن، افسردگی کی علامات، تعلقات میں خرابی سمیت بعض دوسری منفی چیزیں شامل ہیں۔
اسی طرح مناسب نیند نہ کرنے کے باعث معاملہ فہمی میں دشواری یا سستی پیدا ہوتی ہے، کسی بھی عمل کا ردعمل نامناسب ہو سکتا ہے، اس سے خطرات کا احتمال بڑھ جاتا ہے، مختلف بیماریاں حملہ آور سکتی ہیں، نفسیاتی تناؤ بڑھ جاتا ہے، پٹھوں میں در، چکر آنے سمیت دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے انسان کی صلاحیتیں بھی متاثر ہوتی ہیں یعنی مجموعی طور پر بے خوابی کے کئی منفی اثرات سامنے آتے ہیں۔

نیند کی کمی تھکن کا باعث بنتی ہے (فوٹو: سیدتی)

نیند کی کمی کی وجوہات

اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے کوئی بیماری، عادت، کوئی مخصوص طرز عمل یا پھر زندگی میں رونما ہونے والے واقعات بھی اس کی وجہ ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح نیند سے پہلے کی کچھ باتیں بھی اس کی کمی کا باعث بنتی ہیں جیسے کھانا کھانا، ورزش کرنا اور سکرینز پر مشتمل آلات جیسے موبائل فون، کمپیوٹر یا ٹی وی وغیرہ دیکھنا۔
دماغی صحت کی خرابی بھی بار بار نیند میں خلل کا باعث بنتی ہے یا جلدی جگاتی ہے۔
اس کے علاوہ کچھ بیماریوں اور طبی حالتوں میں انفیکشن دائمی بے خوابی کا سبب بنتی ہے، جیسے دمہ، ذیابیطس، رکاوٹ پلمونری بیماری، ہارمونل تبدیلیاں جن کا لڑکیاں زندگی کے کسی نہ کسی موقع پر تجربہ کرتی ہیں، ان کی وجہ سے بھی نیند میں خلل واقع ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے سے کم از کم دو گھنٹے قبل ہلکا کھانا کھائیں (فوٹو: سیدتی)

 صحت مند نیند کے لیے اقدامات

ضروری ہے کہ ہر اہم کام کرنے کے بعد آرام کریں، کوشش کریں کہ جلدی بستر میں جائیں، آٹھ سے نو گھنٹے تک سوئیں۔ سونے سے قبل اگر ممکن ہو تو گرم پانی سے غسل کر لیں۔
رات گئے تک آفیشل کام کرنے سے اجتناب کریں، باقاعدگی سے ورزش کریں اور رات کے آخری اوقات میں ورزش نہ کریں۔
سونے سے کم از کم دو گھنٹے قبل ہلکا کھانا کھائیں۔
 پرسکون نیند کے لیے رات کو کافی، چائے، وٹامن سی اور سافٹ ڈرنکس وغیرہ کے استعمال سے پرہیز کریں۔ اسی طرح ہوادار جگہ پر سوئیں، اسی طرح آرام دہ بستر پر سونا بھی بہتر ہے۔

سونے کا معیاری دورانیہ

نوجوانوں کے لیے آٹھ سے دس گھنٹے سے دورانیہ بڑھنا یا کم ہونا مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

زندگی کے مختلف مراحل میں نیند کی ضرورت مختلف ہو جاتی ہے (فوٹو: سیدتی)

لہٰذا نوجوانوں کے لیے مخصوص نیند کے گھنٹوں کی تعداد کو جاننا ضروری ہے۔
 ماہرین 14 سے 17 سال کے درمیان عمر کے نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ آٹھ سے دس گھنٹے سوئیں۔ اس عمر میں سات گھنٹوں سے کم نہیں سونا چاہیے۔ اسی طرح 18 اور 25 سال کے درمیان عمر والے افراد کو سات سے نو گھنٹے سونے کی ضرور ہوتی ہے۔
 نوجوانوں میں نیند کی کمی دل اور خون کی رگوں کی صحت کو متاثر کرتی ہے اور گردوں اور پیٹ میں چربی جمع ہونے کا سبب ہوتی ہے۔
اسی طرح 11 سے 13 سال کی عمر میں بہترین نیند 9 گھنٹے ہے۔
31 فیصد نوجوان دن میں 7 گھنٹے سے بھی کم سوتے ہیں اور 58 فیصد یا اس سے بھی زائد لوگوں کا سونے کے اوقات مقرر نہیں ہیں۔

شیئر: