Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جوہری پلانٹ میں دھماکے سے یورینیئم کی افزودگی معطل ہوئی: ایران

نطنز ایران کے جوہری پروگرام کا مرکز ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)
ایران نے پیر کو تسلیم کیا ہے کہ نطنز کے جوہری پلانٹ میں ایک دھماکے کے نتیجے میں یورینیئم کی افزودگی معطل ہو گئی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق تہران میں حکام نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ اتوار کو بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے نطنز کے جوہری پلانٹ میں سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
تاہم اس نے بعد میں کہا کہ اسرائیل کی جاسوس ایجنسی نے اس پلانٹ پر سائبر حملہ کیا ہے۔ نطنز ایران کے جوہری پروگرام کا مرکز ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران اور امریکہ 2015 کا جوہری معاہدہ بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تین سال پہلے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور ایران پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔
ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے پیر کو کہا ہے کہ ’پابندیاں اٹھانے کی جانب پیشرفت کی وجہ سے اسرائیلی بدلہ لینا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم ان کے جال میں نہیں پھنسیں گے۔ ہم تخریب کاری کے اس عمل سے جوہری مذاکرات کو متاثر نہیں ہونے دیں گے، لیکن ہم اپنا بدلہ لیں گے۔‘
گزشتہ سال جولائی میں بھی نطنز جوہری تنصیب میں دھماکہ ہوا تھا جس کا ذمہ دار ایران نے مبینہ طور پر اسرائیل کو ٹھہرایا تھا۔
پیر کو اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں ترک نہیں کیں اور اسرائیل تہران کو جوہری صلاحیت حاصل نہیں کرنے دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تل ابیب 'ایرانی جارحیت' کے خلاف 'اپنا دفاع' جاری رکھے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل کے وزیراعظم نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑا خطرہ بھی قرار دیا ہے۔
نطنز جوہری تنصیب میں حادثہ ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب ایران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گزشتہ روز یورینیم افزودگی میں تیزی لانے کے لیے اعلیٰ درجے کے سنٹری فیوجز کی تیاری کا اعلان کیا تھا۔
سنیچر کو ایرانی حکومت نے نطنز میں یورینیم کو افزودہ کرنے کی تنصیب میں 164 آئی آر-6 سنٹری فیوجز کا باقاعدہ افتتاح کیا تھا۔

شیئر: