Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’آرمینیائی باشندوں کی نسل کشی کو تسلیم کرنا انکار کے خلاف لڑائی کی جیت ہے‘

آرمینیائی باشندوں کے منظم قتل عام کے نتیجے میں تقریباً 15 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ (فوٹو: عرب نیوز)
اقوام متحدہ کو بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آرمینیا کے لوگوں کے قتل عام کو نسل کشی قرار دینا نہ صرف متاثرین اور ان کے اہلخانہ کا احترام کا باعث ہے بلکہ یہ ’انکار کے خلاف جنگ اور ماضی کے جرائم کی پردہ پوشی کے خلاف لڑائی‘ کی جیت ہے۔
عرب نیوز کے مطابق پیر کو اقوام متحدہ میں آرمینیا کے مستقل مندوب مہر مارگیرین نے مزید کہا کہ ’واشنگٹن میں انتظامیہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایک شراکت ہے جس پر ہم تہہ دل سے ممنون ہیں۔‘
ان کا یہ بیان اقوام متحدہ میں آرمینی مشن کی جانب سے منعقدہ ایک پینل ڈسکشن کے دوران سامنے آیا تاکہ امریکہ میں قائم انسان دوست تنظیم نیئر ایسٹ فاؤنڈیشن کی وراثت کی عکاسی کی جا سکے۔
فاؤنڈیشن جو سنہ 1915 میں آرمینائی افراد کی نسل کشی کے بعد پیدا ہونے والے نتائج سے نمٹنے کے لیے قائم کی گئی تھی، دنیا کی قدیم ترین خیراتی تنظیموں میں سے ایک ہے۔
اس حوالے سے مایر مارگیرین کا کہنا تھا کہ ’ہم اس عمدہ کوشش کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، یہ ابتدا میں امریکی عوام کی حمایت سے آرمینیا کے باشندوں کے دکھ دور کرنے میں مدد کے لیے بنائی گئی تھی۔‘
یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سنہ 1915 سے 1917 تک سلطنت عثمانیہ میں آرمینیاؤں کے منظم قتل عام کے نتیجے میں تقریباً 15 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔
آرمینیاؤں کے قتل، وسیع پیمانے پر ملک بدری اور دنیا میں ہونے والے دوسرے بڑے مظالم نے پولینڈ کے وکیل وکیل رافیل لیمکن کو ’نسل کشی‘ کی اصطلاح تیار کرنے اور نسل کشی کنونشن کا آغاز کرنے پر مجبور کیا، جو اس اصطلاح کی قانونی تعریف متعین کرتا ہے۔
اسے اقوام متحدہ نے دسمبر 1948 میں متفقہ طور پر منظور کیا تھا اور جنوری 1951 میں اس کا نفاذ ہوا۔
آرمینیا کے مستقل مندوب کا پینل ڈسکشن کے دوران مزید کہنا تھا کہ ’اگرچہ آرمینیاؤں کی نسل کشی کو روکنے میں دنیا کی ناکامی کے حوالے سے بحثیں ہوتی رہی ہیں۔‘
100 سال بعد بھی عالمی برادری کی انسانی بحرانوں کی درست نشاندہی کرنے اور رد عمل ظاہر کرنے کی صلاحیت کو اب بھی کافی چیلنج کیا جا رہا ہے۔‘

شیئر: