Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب شہری کو سفر سے روکنے پر 20 ہزار درہم ہرجانہ

عرب شہری والد اور بہن کی عیادت کے لیے سفر کررہا تھا- (فوٹو الامارات الیوم)
متحدہ عرب امارات میں راس الخیمہ کی عدالت نے ایک عرب شہری کو اپنے والد اور بہن کی عیادت کے لیے جانے سے روکنے پر بینک سے 20 ہزار درہم ہرجانہ دلا دیا ہے۔
الامارات الیوم  کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک عرب شہری کورونا وائرس میں مبتلا اپنے والد اور بہن کی عیادت کے لیے سفر پر جا رہا تھا۔ بینک نے غلط معلومات فراہم کر کے پولیس کے ذریعے اسے سفر سے روک دیا۔ جس سے عرب شہری کو مالی اور اخلاقی نقصان ہوا۔
راس الخیمہ کی کمرشل سول کورٹ نے حکم جاری کیا کہ بینک عرب شہری کو 20 ہزار درہم بطور ہرجانہ ادا کرے اور وکیل کی فیس بھی دی جائے۔
عرب شہری نے بینک کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایئرپورٹ پر سفر کی کارروائی کرا رہا تھا۔ ’امیگریشن حکام نے اسے یہ کہہ کر حیرت زدہ کر دیا کہ آپ سفر نہیں کرسکتے، وجہ دریافت  کی گئی تو کہا گیا کہ آپ کو بوگس چیک جاری کیے گئے ہیں اور معاملہ ایئرپورٹ پولیس حکام کے حوالے کر دیا گیا۔‘
پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ بوگس چیک پر دستخط اس کے نہیں کسی اور کے ہیں۔ پولیس نے حقیقت حال سامنے آجانے پر اسے چھوڑ دیا اور پولیس سٹیشن سے رجوع کرنے کے لیے کہا۔
عرب شہری نے بتایا کہ اس کا نام بلیک لسٹ سے نکال دیا گیا ہے تاہم بینک کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے وہ سفر نہیں کرسکا۔ اس دوران اس کی خوش دامن اور والدہ کا انتقال ہوگیا۔ مجبورا اسے دوسرا ٹکٹ خریدنا پڑا۔ 
انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ آنے جانے کا الگ خرچ ہوا پولیس سٹیشن کے الگ چکر لگانے پڑے۔
عدالت نے اس کے نقصانات کا اندازہ 20 ہزار درہم لگا کر بینک کو حکم دیا کہ وہ مدعی کو یہ رقم ادا کرے۔ 
امارات کی خبروں کے لیے ”اردو نیوز یو اے ای“ گروپ جوائن کریں

شیئر: