Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

رائے ونڈ کے وزیراعظم کو سزا کے باوجود باہر بھیجا جاتا ہے: بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے ’یہ کس قسم کا انصاف ہے کہ وزیراعظم کے دوستوں پر الزام لگے تو وہ جیل نہ جائیں‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ’ہم عوام اور پارلیمنٹ کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں اور حکومت کو گرانے کی گزارش کرنے کے لیے کہیں نہیں جا رہے۔‘
اسلام آباد میں جمعے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’وزیراعظم، وزرا اور ترجمانوں کی طرف سے ملکی معیشت کے حوالے سے جو بیانات سامنے آرہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ انہیں معیشت اور عام آدمی کے حالات کا علم ہی نہیں ہے، حکومت اور سلیکٹڈ وزیراعظم کو علم ہی نہیں ہے کہ عام آدمی، کسان، مزدور، طلبہ کس دکھ اور پریشانی کے حالات سے گزر رہے ہیں۔‘
 
انہوں نے پاکستان کے آئی ایم ایف سے معاہدے کے حوالے سے کہا کہ ’نئے وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ٹھیک نہیں کیا گیا۔‘
بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ دو پاکستان نہیں ہو ایک پاکستان ہو، لیکن ہم سب کے سامنے دوغلا نظام چل رہا ہے۔ یہ قانون کی بالادستی نہیں ہے یہ انصاف نہیں ہے یہ احتساب نہیں ہے۔‘
’یہ انتقام ہے، سیاسی انجینئرنگ ہے اور اب خود ان کے وزیر مانتے ہیں کہ اس سے معیشت کو بھی نقصان ہوا۔‘

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ’رائے ونڈ کے وزیراعظم کو سزا کے باوجود باہر بھیجا جاتا ہے۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)

بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران کو تنقید کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’میں اس وزیراعظم سے پوچھنا چاہتا ہوں جو کہتے تھے کہ احتساب ہوگا اور انصاف ہوگا۔ یہ کس قسم کا احتساب ہے یہ کس قسم کا انصاف ہے کہ وزیراعظم کے دوستوں پر الزام لگے تو وہ جیل نہ جائیں۔ وزیراعظم پر الزام لگے تو کچھ نہ ہو۔ ان کی بہن پر الزام لگے تو کچھ نہ ہو۔‘
’نواب شاہ کے صدر کی بہن پر الزام لگے تو ہسپتال کے بستر سے گھسیٹ کر لے جایا جاتا ہے۔ یہ کس قسم کا ایک پاکستان ہے۔‘
انہوں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے حوالے سے کہا کہ ’رائے ونڈ کے وزیراعظم کو سزا کے باوجود باہر بھیجا جاتا ہے۔ وہ لندن میں بیٹھے ہیں اس انصاف کے نظام میں، اس احتساب کے نظام میں اس نئے پاکستان میں جہاں این آر او نہیں دیا جاتا۔‘
’لیکن جو صدر نواب شاہ سے ہے وہ تین سال سے طبی ضمانت پر ہے، وہ کبھی کراچی کے کسی ہسپتال میں جاتا ہے تو کبھی اسلام آباد میں ڈاکٹر سے ملتا ہے۔ وہ اپنے ملک میں قید کاٹ رہا ہے وہ خوش ہے وہ باہر نہیں جاتا۔ وہ اپنی بیٹی اور بیٹے کے کہنے کے باوجود باہر نہیں جاتا، یہ کس قسم کا دوغلا نظام ہے یہ کس قسم کا مذاق ہے۔‘
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ’قائد حزب اختلاف پنجاب سے ہو تو ضمانت مل جاتی ہے، قائد حزب اختلاف سندھ سے ہو تو وہ جیل میں ہوتا ہے۔‘

شیئر: