Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لوگوں کی باتوں کے ڈر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا تھا: ودیا بالن

ودیا بالن کے مطابق ’اگر آپ خود کو پسند کرتے ہیں تو کسی اور کی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
بالی وڈ اداکارہ ودیا بالن نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں خود پر بھروسہ کرنے اور اپنے آپ کو قبول میں کافی مشکلات کا سامنا رہا اور ان کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب ارد گرد سے ہونے والی تنقید کی وجہ سے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا تھا۔ 
بالی وڈ ببل نامی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ودیا بالن کا کہنا تھا کہ فیشن کے شوق کی وجہ سے انہیں بے تحاشا تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا جبکہ جسمانی ساخت پر بھی انہیں منفی باتیں سننے کو ملتی رہیں۔
انٹرویو میں انہوں نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ 'مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ میں صرف اس وجہ سے گھر سے نکلنے سے ڈرتی رہی کہ لوگ مجھے دیکھ کر باتیں بنائیں گے، وہ بہت سخت دن تھے۔ میں بہت گھبرائی ہوئی رہا کرتی تھی۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ عرصہ ایسے ہی گزرا اور پھر ان کے ذہن میں یہ خیال بیٹھ گیا کہ وہ کبھی اچھی دکھائی نہیں دے سکیں گی۔
بقول ان کے 'کبھی کبھی میں فیشن کے مطابق انداز اپناتی تھی اور سٹائلسٹ بھی کہتے تھے کہ میں اچھی لگ رہی ہوں لیکن پھر بھی زیادہ تر لوگوں کی رائے مختلف ہوتی، انہیں لگتا تھا کہ شاید مجھ میں کوئی خرابی ہے۔‘
ودیا بالن کے مطابق انہیں احساس ہوا کہ ہر کوئی ان سے خوش نہیں ہو سکتا۔

ودیا بالن نے حال ہی میں صنفی تعصب کا شکار ہونے پر بھی بات کی ہے (فوٹو: بالی وڈ ہنگامہ)

ان کا کہنا ہے کہ 'اگر آپ خود کو پسند کرتے ہیں تو کسی اور کی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میں نے خود کو قبول کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ کئی سالوں سے ایک ہیلر کے ساتھ کام کر رہی ہیں جو ان کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے کیونکہ خود قبولیت سے انہیں زندگی کا مقصد حاصل ہو گیا ہے۔
ودیا بالن نے حال ہی میں صنفی تعصب کا شکار ہونے پر بھی بات کی ہے۔
ان کا کہنا مزید تھا کہ کبھی کبھی لوگوں کی باتوں سے وہ چڑ جایا کرتی تھیں لیکن اب ایسا بہت کم محسوس ہوتا ہے۔
ان کے مطابق 'میں اکثر لوگوں کو صنفی تعصب کا نشانہ بنتے دیکھتی ہوں جو افسوسناک ہے، بیشتر لوگوں کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور اس سے کسی کے جذبات کو کس قدر ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ کاش لوگ بات کرنے سے پہلے سوچ لیا کریں۔‘

شیئر: