Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیس بک طنزیہ مواد سے متعلق اپنی پالیسی پر’ نظرثانی کرے گا‘

فیس بک کی اپ ڈیٹ کے بعد طنزیہ مواد کا معاملہ واضح ہو سکے گا (فائل فوٹو: پکسابے)
سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم فیس بک کا کہنا ہے کہ وہ جلد اپ ڈیٹ کیے جانے والے کیمونٹی سٹینڈرڈز میں طنزیہ مواد سے برتاؤ کے معاملے کو مزید وضاحت سے بیان کرے گا۔
کمپنی کی جانب سے معاملے پر لکھی گئی بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’ہم کیمونٹی سٹینڈرڈز میں ایسی معلومات شامل کریں گے جو واضح کرے گا کہ طنزیہ مواد کو ہم پس منظر دیکھ کر کیے گئے جائزے اور فیصلوں میں کیسے شامل کریں گے۔‘
’اس تبدیلی کے بعد متعلقہ ٹیموں کو سہولت ہو گی کہ وہ نفرت پھیلانے والے مواد کے جائزے کے وقت طنزیہ مواد کو پرکھ سکیں۔‘
طنزیہ مواد کے بارے میں فیس بک کے اس فیصلے کے متعلق اندازہ کیا جا رہا ہے کہ یہ کمپنی کے ’اوورسائٹ بورڈ‘ کی تجاویز پر مبنی ہے۔
نگران ادارے کی جانب سے دی گئی تجاویز میں کہا گیا تھا کہ فیس بک نے ایک ترک صارف کا حکومت سے متعلق میم کے ساتھ شیئر کیا گیا کمنٹ ڈیلیٹ کر کے غلط کیا تھا۔
فیس بک نے پوسٹ ریموو کرتے ہوئے اسے کیمونٹی سٹینڈرڈز کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ ان سٹینڈرڈز کے مطابق میمز یا گفز کے ذریعے کسی کو جسمانی یا جذباتی ایذا پہنچا سکنے والا مواد حذف کر دیا جاتا ہے۔
ورج نامی ویب سائٹ کے مطابق فیس بک نے پوسٹ ہٹانے کی وجہ بعد میں تبدیل کر کے ’ہیٹ سپیچ کیمونٹی سٹینڈرڈ‘ کر دی تھی۔

ترک صارف کی ایک پوسٹ ہٹانے پر اوورسائٹ بورڈ نے تجاویز دی ہیں (فوٹو: پکسابے)

اس معاملے کے بعد اوورسائٹ بورڈ نے نشاندہی کی تھی اگر چہ فیس بک طنزیہ مواد کے لیے رعایت کو تیار ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ کون سی چیز طنزیہ مواد کی تعریف پر پورا اترے گی۔
اس کے جواب میں فیس بک نے آفیشل بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ طنزیہ مواد سے متعلق اپنی رہنما ہدایات کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ’مواد کو پس منظر میں دیکھنے پر نظرثانی‘ کرتے ہوئے مزید اقدامات بھی کر سکتے ہیں۔
فیس بک کے موجودہ قوانین کے تحت سوشل نیٹ ورک کسی بھی انداز میں ’نفرت پھیلانے والے مواد‘ کو کیمونٹی سٹینڈرز کے خلاف قرار دے کر حذف کر دیا کرتا ہے۔

شیئر: