Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’فٹیف کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟‘

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہمارا مفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے۔‘ (فوٹو: فیٹیف نیوز)
پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر مکمل عملدرآمد کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق سنیچر کو ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے ایک بیان میں وزیرخارجہ نے کہا کہ ’اس بات کا تعین کرنا ہو گا کہ ایف اے ٹی ایف ایک تکنیکی فورم ہے یا پولیٹیکل؟ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس فورم کو سیاسی مقاصد کے لیے تو استعمال نہیں کیا جا رہا؟‘
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’جہاں تک تکنیکی پہلوؤں کا تعلق ہے تو ہمیں 27 نکات دیے گئے، وہ خود تسلیم کر رہے ہیں کہ 27 میں سے 26 نکات پر ہم نے مکمل عملدرآمد کر لیا ہے۔‘
27 ویں نکتے پر بھی کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور مزید کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میری نظر میں ایسی صورت حال میں پاکستان کو گرے لسٹ میں رہنے اور رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی۔‘
وزیر خارجہ نے کہا کہ ’بعض قوتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان کے سر پر تلوار لٹکتی رہے، میں یہ بھی واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم نے جو بھی اقدامات اٹھائے وہ اپنے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے اٹھائے۔‘
مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہمارا مفاد یہ ہے کہ منی لانڈرنگ نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کی منشا یہ ہے کہ ہم نے دہشت گردی کی مالی معاونت کا تدارک کرنا ہے۔ وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ جو بات پاکستان کے مفاد میں ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ روز منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے کام کرنے والا بین الاقوامی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پیرس میں پانچ روزہ اجلاس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
فیصلے کا اعلان ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے پانچ روزہ ورچوئل اجلاس کے اختتام پر کیا۔

ادارے کے صدر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے متعدد ایریاز میں پیشرفت کی ہے لیکن اہم ایریاز میں پیشرفت میں ناکام ہوا ہے۔‘ (فوٹو: سکرین گریب)

اجلاس کے اختتام پر کی گئی پریس کانفرنس میں ادارے کے صدر کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے متعدد ایریاز میں پیشرفت کی ہے لیکن اہم ایریاز میں پیشرفت میں ناکام ہوا ہے۔
انہوں نے ایشیا پیسیفک گروپ کی سفارشات کے بعد پاکستان کی کوششوں کو سراہا تو توقع ظاہر کی کہ مزید بہتری کے لیے حکومت پاکستان کوششیں جاری رکھے گی۔
پاکستان کو طویل عرصے سے گرے لسٹ میں برقرار رکھے جانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے اصول واضح ہیں، ان پر عمل نہ کر سکنے والوں کو لسٹ میں رہنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو منی لانڈرنگ کا نیا ایکشن پلان دیا جا رہا ہے۔

شیئر: