Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پشاور میں ڈکیت ’ڈائناسور‘ کی پولیس حراست میں ’ساتھیوں کی فائرنگ‘ سے ہلاکت کا دعویٰ

ڈی ایس پی عمر آفریدی نے پشاور پولیس کی کارروائی کے بارے میں بتایا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پشاور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ رہزنی اور پرتشدد وارداتوں میں مطلوب بدنام زمانہ گینگ کے کارندے کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک ملزم ’ڈائناسور‘ کے نام سے مشہور تھا جو شہر میں خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
پولیس کے مطابق پشتخرہ تھانے کی حدود سے دو ملزم گرفتار کیے گئے تھے جو پشاور میں خوف کی علامت بن گئے تھے۔ ’دونوں ملزمان رہزنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے جو واردات کے دوران شہریوں پر تشدد بھی کرتے تھے۔‘
کیپیٹل سٹی پولیس کے ترجمان کے مطابق ’دونوں گرفتار ملزموں کو دیگر ساتھیوں کی نشان دہی کے لیے شہید آباد کے علاقے لے جایا جا رہا تھا کہ نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی جس میں پولیس اہلکار محفوظ رہے تاہم زیر حراست ملزم سعید اللہ اور شاہزیب گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے۔‘
پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’گرفتار ملزموں کے ساتھیوں نے پولیس پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دونوں ملزمان ہلاک ہو گئے جب کہ فائرنگ کرنے والے ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔‘ 

ایک ملزم ’ڈائناسور‘ کے نام سے مشہور تھا

ڈی ایس پی پشتخرہ عمر آفریدی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ملزم سعید اللہ افغانی باشندہ تھا جو جرائم کی دنیا میں خوف کی علامت بن گیا تھا۔ سنیچر نے خوف پیدا کرنے کے لیے اپنا نام ڈائناسور رکھا ہوا تھا جبکہ اس کا ساتھی شاہ زیب عرف گوپھی کے نام سے مشہور تھا۔‘
ڈی ایس پی عمر آفریدی کے مطابق دونوں ملزم آئس ڈرگ کے عادی تھے جس کے باعث دونوں مل کر نشہ کرتے اور وارداتیں بھی ایک ساتھ کرتے تھے۔‘ 
پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ ’ڈائناسور‘ کے نام سے مشہور رہزن نے گرفتار ہونے کے بعد متعدد سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ’اس گینگ کے دیگر ارکان مفرور ہیں جو بہت جلد قانون کی گرفت میں آجائیں گے۔‘

’رہزن ’ڈائناسور‘ ایک نوجوان کے قتل میں ملوث تھا‘

ڈی ایس پی عمر آفریدی نے کہا کہ ’ملزموں نے 2 جنوری کو شہید آباد میں نوجوان سے موبائل فون چھیننے کے دوران اسے گولی مار دی تھی جس کا مقدمہ پشتخرہ تھانے میں درج کیا گیا تھا۔‘ 

پولیس کے مطابق تھانہ مچنی گیٹ کے قریب مقابلے میں بھی ایک رہزن ہلاک ہوا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے بتایا کہ ’مارے جانے والا ملزم نوجوان کو قتل کرنے سمیت دیگر پر تشدد وارداتوں کا اعتراف بھی کر چکا تھا۔‘

تھانہ مچنی گیٹ کا مطلوب رہزن ہلاک

پولیس کے مطابق دو روز قبل تھانہ مچنی گیٹ کے قریب پولیس مقابلے میں خطرناک رہزن امتیاز عرف ’پپونگے‘ ہلاک ہو گیا تھا۔ ملزم کے خلاف پشاور کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج تھے۔ ادھر تھانہ متھرا کی حدود میں بھی ایک مطلوب رہزن عباد عرف بہلول کے اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے کا دعویٰ پولیس کی جانب سے کیا گیا ہے۔

 

شیئر: